سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کے بچوں کے لیے خوشخبری، باقاعدہ سہولت ختم ہونے کے باوجود صحت اسکیم کے تحت علاج ملے گا
مغربی بنگال ہیلتھ اسکیم (WBHS) کے تحت زیرِ کفالت سرکاری ملازمین یا ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے بچوں کے لیے ریاستی حکومت نئی سہولت شروع کرنے جا رہی ہے۔ مقررہ عمر، مالی انحصار، آمدنی، ازدواجی حیثیت یا کسی دوسری شرط کی وجہ سے اگر کسی بچے کا نام باقاعدہ مستفید ہونے والوں کی فہرست سے خارج ہو جائے، تب بھی متعلقہ سرکاری ملازم یا پنشن یافتہ کے بچے کو WBHS کے دائرے میں رکھا جا سکے گا۔ تاہم، اس نئی زمرے میں علاج کے تمام اخراجات خود متعلقہ مستفید شخص کو برداشت کرنے ہوں گے۔ ’نان پیکونیئری بینیفیشری‘ کے نام سے یہ نظام یکم اکتوبر سے نافذ ہوگا۔
11 ستمبر کو محکمہ خزانہ کے میڈیکل سیل کی جانب سے جاری کردہ ہدایت میں کہا گیا ہے کہ 11 مئی 2009 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق WBHS میں زیرِ کفالت بیٹے یا بیٹی کو شامل کرنے کے لیے عمر، مالی انحصار، آمدنی، ازدواجی حیثیت اور مستقل معذوری جیسی شرائط مقرر ہیں۔ اب تک ان شرائط کو پورا نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ بچے کا نام باقاعدہ مستفید ہونے والوں کی فہرست سے خارج کرنا پڑتا تھا۔ اس کے نتیجے میں طویل عرصے تک علاج کی ضرورت رکھنے والے افراد کے لیے WBHS کی سہولت اچانک ختم ہو جاتی تھی۔ اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے زمرے کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ہدایت کے مطابق ’نان پیکونیئری بینیفیشری‘ سے مراد ایسا بیٹا یا بیٹی ہے جو پہلے WBHS کے باقاعدہ مستفید تھے یا اس سہولت کے اہل تھے، لیکن مقررہ کسی شرط کی وجہ سے اب باقاعدہ سہولت حاصل کرنے کے اہل نہیں رہے۔ ایسا شخص فہرست میں شامل اسپتالوں اور صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں میں WBHS کی منظور شدہ شرح پر علاج کرا سکے گا۔
تاہم، اس نظام میں کوئی مالی فائدہ نہیں ہوگا۔ نئے زمرے میں نام درج ہونے کے بعد کیش لیس علاج، علاج کے اخراجات کی واپسی یا WBHS کے تحت کسی بھی دوسری مالی سہولت کا دعویٰ نہیں کیا جا سکے گا۔ علاج کے اخراجات کی کوئی مالی ذمہ داری حکومت کی بھی نہیں ہوگی۔ یعنی منظور شدہ ادارے میں علاج تو کرایا جا سکے گا، لیکن بل مریض کو خود ادا کرنا ہوگا۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس زمرے میں رجسٹریشن لازمی نہیں ہوگا۔ متعلقہ سرکاری ملازم یا پنشن یافتہ کی درخواست کی بنیاد پر ہی بچے کو ’نان پیکونیئری بینیفیشری‘ کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا۔ بچے کی ملازمت یا آمدنی کی صورتحال، یا بیٹی کی صورت میں شادی کی اطلاع دیتے وقت بھی اس اختیار کا انتخاب کیا جا سکے گا۔
25 سال کی عمر کو پہنچنے والے زیرِ کفالت بیٹے کے معاملے میں بھی ضابطہ مزید واضح کیا گیا ہے۔ 25 سال کی عمر مکمل ہونے سے ایک ماہ قبل سرکاری ملازم یا پنشن یافتہ اس اختیار کا انتخاب کر سکے گا۔ محکمہ پیشگی رجسٹریشن کا انتظام کرے گا، تاکہ باقاعدہ سہولت ختم ہونے کے اگلے ہی دن سے نئے زمرے کی سہولت مو¿ثر ہو جائے۔ اس طرح دونوں نظاموں کے درمیان کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔
ہدایت میں سرکاری ملازمین اور پنشن یافتہ افراد کی ایک ذمہ داری بھی مقرر کی گئی ہے۔ اگر کوئی زیرِ کفالت فرد باقاعدہ سہولت حاصل کرنے کی اہلیت کھو دیتا ہے تو وقت پر اس کا نام فہرست سے خارج کیے جانے کو یقینی بنانا ہوگا۔ اہلیت ختم ہونے کی اطلاع چھپانے یا کسی اہم معلومات کو مخفی رکھنے کی صورت میں WBHS کے ضوابط کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔
سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کے بچوں کے لیے خوشخبری، باقاعدہ سہولت ختم ہونے کے باوجود صحت اسکیم کے تحت علاج ملے گا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments