سرینگر: رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی "جمعۃ الوداع" کو کشمیر کی سب سے بڑی عبادتگاہ جامع مسجد سرینگر کو مقفل رکھا گیا ہے اور حکام نے تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی اجازت نہیں دی۔ روایتی طور اس روز یعنی آج سرینگر سمیت وادی کے یمین و یسار سے سے ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند صدیوں پرانی اس مسجد میں جمع ہو کر نماز ادا کرتے اور رمضان کے آخری جمعہ کو اللہ کے حضور دعائیں مانگتے تھے۔ مگر اس سال بھی اس عظیم الشان مسجد کے دروازے چاروں طرف سے کر دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے آج لگاتار ساتویں "جمعۃ الوداع" کو بھی یہاں اجتماعی نماز ادا نہیں ہو سکے گی۔ علیحدگی پسند رہنما اور میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے اس صورتحال پر گہرے افسوس اور دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے سماجی رابطہ گاہ پر جامع مسجد کے بند دروازوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے اس کا موازنہ قبلہ اول مسجد اقصیٰ پر عائد صہیونی پابندیوں سے کیا۔ میرواعظ نے ایکس پر لکھا: "رمضان کے آخری جمعہ کے موقع پر جب قصبوں اور دیہات سے ہزاروں لوگ تاریخی جامع مسجد سرینگر میں نماز اور دعا کے لیے آتے ہیں، تو ایک بار پھر اس کے تمام دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ مسلسل ساتویں برس حکام نے مسلمانوں کو یہاں (جمعۃ الوداع کی) نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ بیت المقدس کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ کشمیر نے کہا کہ "جس طرح اسرائیل نے رمضان کے دوران مسجد الاقصیٰ کے دروازے زبردستی بند کیے، ویسی ہی ایک تکلیف دہ صورتحال یہاں بھی نظر آ رہی ہے۔ ہمارے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ اللہ کے گھروں کو اہل ایمان پر بند کرنے والوں پر افسوس ہے۔" اپنے پیغام کے ساتھ میرواعظ نے جامع مسجد کے بند دروازوں کی تصاویر اور رمضان کے دوران مسجد الاقصیٰ میں تعینات اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ جمعۃ الوداع اسلامی کلینڈر کے اہم ترین جمعوں میں شمار ہوتا ہے۔ کشمیر بھر کی مساجد میں اس روز بڑے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں اور سب سے بڑا اجتماع تاریخی جامع مسجد سرینگر میں منعقد ہوتا جو طویل عرصے سے وادی میں مذہبی اجتماعات کا مرکزی مقام رہی ہے۔ اس روز سرکاری تعطیل بھی ہوتی ہے، اس حوالہ سے گزشتہ روز جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے باضابطہ طور نوٹس جاری کرتے ہوئے آج یعنی جمعۃ الوداع کو تعطیل کا اعلان کیا، اس سے قبل سال بھر پہلے جاری کیے گئے حکومتی کلینڈر میں جمعۃ الوداع کی چھٹی آئندہ جمعہ کو درج تھی۔ جمعرات کی شام کو ہی جموں و کشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے بھی اعلان کیا کہ اس سال جمعۃ الوداع 13 مارچ بروز جمعہ کو ادا کیا جائے گا کیونکہ اگلے جمعہ کو 30رمضان یا ممکنہ طور پر عیدالفطر بھی ہو سکتی ہے۔ دریں اثنا، جامع مسجد مسجد کے انتظامی ادارے انجمن اوقاف جامع مسجد نے حال ہی میں میرواعظ کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد کیا جس میں جمعۃ الوداع، شب قدر اور عیدالفطر کی نمازوں کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں امید ظاہر کی گئی کہ تقریباً سات سال بعد حکام جامع مسجد میں اجتماعی نماز کی اجازت دیں گے۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ اگر اجازت دی گئی تو نمازوں کے پرامن انعقاد کے لیے سرکاری محکموں کے ساتھ رابطہ کیا جائے گا۔ ادھر، جمعۃ الوداع کو ایران سمیت دنیا بھر کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں "یوم القدس" منایا جاتا ہے جس روز بیت المقدس پر صہیونی قبضہ کی مذمت اور فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس روز شیعہ برادری سے وابستہ افراد جلسے اور جلوس کے ذریعے یکجہتی کا اظہا رکرتے ہیں تاہم امسال سرینگر سمیت بڈگام میں بھی شیعہ اکثریتی علاقوں میں پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات