National

’غیر قانونی مدرسہ‘ کی افواہ، بیتول میں زیرِ تعمیر نجی اسکول پر چلا بلڈوزر

’غیر قانونی مدرسہ‘ کی افواہ، بیتول میں زیرِ تعمیر نجی اسکول پر چلا بلڈوزر

مدھیہ پردیش کے ضلع بیتول کے ایک دیہی علاقے میں بلڈوزر کارروائی کے ایک متنازع واقعے نے گورننس، افواہوں اور قانونی طریقۂ کار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بھینسدھی تحصیل کے ڈھا بہا ( گاؤں میں زیرِ تعمیر ایک نجی اسکول کی عمارت کو جزوی طور پر منہدم کر دیا گیا، جب کہ یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ یہاں ایک “غیر قانونی مدرسہ” چلایا جائے گا۔ بعد ازاں موقع پر کسی قسم کی مذہبی سرگرمی یا ادارہ قائم ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ غیر مصدقہ دعوے اور انتظامی دباؤ کس طرح عام شہریوں کو براہِ راست متاثر کر سکتے ہیں۔ یہ معاملہ ضلع بیتول کے بھینسدھی تحصیل کے ڈھا بہا گاؤں میں پیش آیا۔ مقامی رہائشی عبدالنعیم اپنی ذاتی زمین پر ایک نجی اسکول کی عمارت تعمیر کر رہے تھے، جس پر اب تک تقریباً 20 لاکھ روپے خرچ ہو چکے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ گاؤں کے بچوں کو قریب ہی تعلیمی سہولت میسر آ سکے۔ عمارت ابھی نامکمل تھی، نہ کوئی کلاس شروع ہوئی تھی اور نہ ہی کسی قسم کی مذہبی سرگرمی جاری تھی۔ اس کے باوجود گاؤں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ یہاں ایک “غیر قانونی مدرسہ” قائم کیا جائے گا۔ ڈھا بہا گاؤں کی آبادی تقریباً 2000 افراد پر مشتمل ہے، جن میں صرف تین سے چار مسلم خاندان شامل ہیں۔ عبدالنعیم نے یہاں تک کہا کہ اگر ان کی موجودگی سے تناؤ پیدا ہو رہا ہے تو وہ گاؤں چھوڑنے کو تیار ہیں، مگر عمارت نہ توڑی جائے یہ معاملہ صرف ایک ڈھانچے کا نہیں، بلکہ قانون، طاقت اور عوامی تاثر کے نازک توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ جب افواہیں طاقت پکڑ لیں اور طریقۂ کار غیر واضح ہو جائے تو نقصان عام شہری کا ہی ہوتا ہے۔ بیتول کے گاؤں میں اسکول پر بلڈوزر کارروائی انصاف، جواب دہی اور مصدقہ فیصلہ سازی کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments