National

گجرات کے ہندو اکثریتی گاؤں میں پھر چلا درگاہ اور مزارات پر بلڈوزر

گجرات کے ہندو اکثریتی گاؤں میں پھر چلا درگاہ اور مزارات پر بلڈوزر

گجرات کے بھروچ میں قائم بالاپیر درگاہ اور دو مزاروں کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا گیا۔ اس دوران بھاری تعداد میں پولیس فورس تعینات رہی۔ انتظامیہ نے یہ کارروائی گاؤں والوں کی شکایت پر کی۔ بتایا گیا ہے کہ کارروائی سے پہلے پنچایت نے درگاہ کو نوٹس بھی جاری کیا تھا۔یہ واقعہ بھروچ کے گووالی گاؤں کا ہے، الزام ہے کہ سرکاری چراگاہ کی زمین پر بالاپیر درگاہ، دو مزار اور ایک کمرہ بنایا گیا تھا۔ اس پر گاؤں والے کافی ناراض تھے اور انہوں نے انتظامیہ سے کارروائی کی درخواست کی تھی۔گووالی گاؤں میں ہندو کمیونٹی کی تعداد سب سے زیادہ ہے، اور یہاں جانوروں کے چرنے کے لیے بڑی چراگاہ کی زمین موجود ہے۔ اسی زمین پر غیر قانونی طور پر درگاہ، دو مزار اور رہائش کے لیے کمرہ بنایا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق گاؤں کے ہندو باشندوں نے اس تعمیر کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سرکاری زمین پر تجاوزات کا کیس درج کرایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کلیکٹر کو تحریری درخواست دے کر درگاہ اور مزاروں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ گاؤں کی گرام پنچایت نے بھی کئی بار نوٹس جاری کر کے تعمیر کرنے والوں کو زمین خالی کرنے کے لیے کہا، لیکن ان کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد گاؤں والوں نے انتظامیہ کی طرف رجوع کیا اور پولیس سے کارروائی کی مانگ کی۔ گاؤں والوں کی درخواست پر ضلع انتظامیہ بھاری پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچی۔ مسماری کے دوران بھروچ ضلع پولیس کے ساتھ کئی افسران اور گاؤں کی پنچایت کے لوگ بھی موجود تھے۔ پولیس نے بلڈوزر سے درگاہ، دونوں مزار اور کمرے کو مسمار کر دیا۔ اس دوران موقع پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔ معلومات کے مطابق، مسماری کے وقت درگاہ سے جڑا کوئی بھی شخص موقع پر موجود نہیں تھا، صرف درگاہ کا نگہبان (خادم) ہی موجود تھا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments