مدھیہ پردیش کے جبل پور ضلع سے گھوٹالہ کا ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے سرکاری تحقیق اور روایتی علاج کے نام پر ہو رہی من مانی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ پنچ گویہ (گائے سے حاصل ہونے والی 5 چیزوں کا مجموعہ) جس میں دودھ، دہی، گھی، گائے کا پیشاب اور گائے کا گوبر شامل ہے، سے ٹی بی اور دیگر سنگین بیماریوں کے علاج کے دعوے کے ساتھ ناناجی دیش مکھ ویٹرنری سائنس یونیورسٹی میں کروڑوں روپے کے گھوٹالے کا انکشاف ہوا ہے۔ دراصل 2011 میں ’پنچ گویہ‘ منصوبہ کے تحت یونیورسٹی نے گائے کے گوبر، گؤموتر اور دودھ سے کینسر جیسی بیماریوں پر تحقیق کرنے کے نام پر حکومت سے 8 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت نے تحقیقات کے لیے 3 کروڑ 50 لاکھ روپے منظور کیے تھے۔ واضح رہے کہ کلکٹر کے حکم پر جبل پور کے ایڈیشنل کلکٹر رگھوویر سنگھ مراوی اور ڈسٹرکٹ ٹریژری آفیسر ونائکی لکرا کے ذریعہ پورے معاملے کی تفتیش کی گئی۔ تحقیقات کے دوران پایا گیا کہ ایک کروڑ 92 لاکھ روپے گوبر، گؤموتر، گملا، خام مال اور کچھ مشینوں کی خریداری میں خرچ کر دیے گئے، جبکہ مارکیٹ میں ان مشینوں کی قیمت محض 15 سے 20 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے۔ تحقیقات کے نام پر گوا اور بنگلورو سمیت کئی شہروں کے 24 فضائی سفر کیے گئے، تقریباً 7.5 لاکھ روپے کی کار خریدی گئی، 7.5 لاکھ روپے پیٹرول-ڈیزل اور مینٹیننس کے نام پر خرچ کیے گئے، 3 لاکھ 50 ہزار روپے لیبر کی ادائیگی دکھائی گئی، تقریباً 15 لاکھ روپے کے ٹیبل اور الیکٹرانک آئٹم خریدے گئے۔ یہ پورا سلسلہ 2011 سے 2018 تک چلتا رہا۔ اس گھوٹالہ معاملے میں یشپال ساہنی، سچن کمار جین، گری راج سنگھ سمیت دیگر لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ تحقیقات میں یہ بھی اشارے ملے ہیں کہ یونیورسٹی کے کچھ سینئر افسران کا کردار مشکوک ہو سکتا ہے۔ دراصل اس پورے معاملے کی شکایت محکمہ تک پہنچنے کے بعد کلکٹر نے 2 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔ ایڈیشنل کلکٹر آر ایس مراوی اور ڈسٹرکٹ ٹریژری آفیسر ونائکی لکرا کی قیادت میں کی گئی انتظامی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ 2011 سے 2018 کے درمیان حکومت سے ملے 3.5 کروڑ روپے سے زائد کی رقم کا غلط استعمال ہوا۔ ریسرچ فنڈ سے مہنگی گاڑیاں خریدی گئیں اور سفر کیے گئے، جبکہ پروجیکٹ میں اس کا کوئی التزام نہیں تھا۔ کئی اہم دستاویز یا تو برباد کر دیے گئے یا جان بوجھ کر دستیاب نہیں کرائے گئے۔ تحقیقات مکمل کر تفصیلی رپورٹ کلکٹر کو سونپ دی گئی ہے۔ ناناجی دیش مکھ ویٹرنری سائنسز یونیورسٹی کے وائس چانسلر مندیپ شرما نے کہا کہ پنچ گویہ منصوبہ میں جو بے ضابطگی کی بات کہی جا رہی ہے وہ منصوبہ 2012 سے 18-2017 تک چلی تھی۔ یہ ایک پرانا منصوبہ ہے، اس میں جو بھی کام ہوئے ان کی تمام تکنیکی رپورٹ اور امدادی رپورٹ فنڈنگ ایجنسی کو پہلے ہی دستیاب کرا دی گئی تھی اور تمام رپورٹس کا آڈٹ کیا گیا تھا۔ اس وقت کسی بھی طرح کی بے ضابطگی کا معاملہ سامنے نہیں آیا تھا، بعد میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ وہ ٹیم ہمارے پاس آئی اور ان سے متعلق جو بھی دستاویز مانگے گئے وہ تمام دستیاب کرا دیے گئے۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو