National

گائے کو قومی جانور کا درجہ دینے میں ہچکچاہٹ کیوں؟ مولانا ارشد مدنی نے حکومت سے پوچھے سوال

گائے کو قومی جانور کا درجہ دینے میں ہچکچاہٹ کیوں؟ مولانا ارشد مدنی نے حکومت سے پوچھے سوال

بدھ (20 مئی 2026) کو، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے گائے کو قومی جانور کا درجہ دینے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، بجائے اس کہ خوشی ہوگی کہ اس سے گائے کے نام پر ماب لنچنگ اور تشدد کے واقعات رک جائیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب ملک کی آبادی کی اکثریت گائے کو نہ صرف مقدس مانتی ہے بلکہ اسے ’’ماں‘‘ کا درجہ بھی دیتی ہے تو پھر ایسی کون سی سیاسی مجبوری ہے جو حکومت کو اسے قومی جانور قرار دینے سے روک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مطالبہ صرف ہم ہی نہیں کر رہے ہیں، بلکہ بہت سے سادھو سنت طویل عرصے سے یہ مطالبہ کررہے ہیں ۔ اس کے باوجود اگر حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی تو اس کے کیا معنی لگائے جائیں ؟ مولانا مدنی نے کہا کہ گائے کے مسئلہ کو سیاسی اور جذباتی مسئلہ بنا دیا گیا ہے، کچھ لوگ منظم طریقے سے گائے کے ذبیحہ کی افواہیں پھیلاتے ہیں یا مویشیوں کی اسمگلنگ کا نام لے کر معصوم لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ماب لنچنگ کی ایک بڑی وجہ یہی نفسیات ہے۔" انہوں نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اس سے پہلے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد گائے پالتی تھی اور ان کے دودھ کی تجارت کرتی تھی۔ تاہم 2014 کے بعد ملک میں نفرت کی جو فضا پیدا ہوئی اس کے بعد مسلمانوں نے احتیاط برتنی شروع کی اور اب اکثر لوگ گائے کے بجائے بھینس پالنے کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا، “2014 میں ممبئی میں منعقدہ ایک کانفرنس میں، سنتوں اور مختلف مذاہب کے لوگوں نے متحد ہو کر ملک میں امن اور اتحاد قائم کرنے کے مقصد سے گائے کو ‘قومی جانور’ قرار دینے کا مطالبہ اٹھایا تھا۔ جمیعت علمائے ہند، آزادی سے پہلے اور بعد میں، مسلمانوں کو یہ مسلسل بتا رہی ہے کہ کوئی ایسے کام نہ کئے جائیں جن سے کسی دوسرے مذہب کے لوگوں کے جذبات مجروح ہوتے ہوں ۔ انہوں نے کہا، “جمعیۃ علماء ہند نے اپنے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کو مسلسل یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ممنوعہ جانوروں کی قربانی سے گریز کریں۔ ہر سال عید الاضحی کے موقع پر اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے۔” گائے کے معاملے پر دوہرے معیار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا، “یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے حق میں دلیل یہ ہے کہ جب ملک ایک ہے تو قانون بھی ایک ہونا چاہیے۔ تاہم، جانوروں کے ذبیحہ سے متعلق قوانین تمام ریاستوں میں یکساں طور پر نافذ نہیں ہیں۔” انہوں نے کہا، “ملک کی کئی ریاستوں میں گائے کا گوشت کھلے عام کھایا جاتا ہے، اور اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ایک مرکزی وزیر نے بھی کھلے عام اعتراف کیا ہے کہ وہ گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “حیرت کی بات یہ ہے کہ ان ریاستوں میں بھی، جہاں بی جے پی برسراقتدار ہے، گائے کے نام پر تشدد کرنے والے مکمل طور پر خاموش رہتے ہیں۔ اس دوہرے معیار کے خلاف کبھی کوئی سنجیدہ بحث یا احتجاج نہیں ہوتا ہے۔” جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا مدنی نے کہا، “کچھ عرصہ قبل جب یہ مسئلہ اٹھایا گیا تو بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے بیان دیا کہ ان ریاستوں میں گائے کا گوشت نہیں بلکہ متھن کا گوشت، جسے عام طور پر جرسی گائے کا گوشت کہا جاتا ہے، کھایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر گائے کے اندر بھی امتیاز پیدا کیا گیا ہے۔” انہوں نے سوال کیا کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہاں صرف جرسی گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ افسوسناک سچائی یہ ہے کہ قابل ذکر مسلم آبادی والی ریاستوں میں گائے کو مقدس بتا کر سیاست کی جاتی ہے، جب کہ زیادہ مسلم آبادی والی ریاستوں میں یا جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے، گائے متھن بن جاتی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments