National

گائے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی کے حکم کو تمل ناڈو حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا

گائے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی کے حکم کو تمل ناڈو حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا

نئی دہلی: تمل ناڈو حکومت نے 27 مئی کے مدراس ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے، جس میں ریاست میں گائے اور بچھڑوں کے ذبیحہ پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ ریاستی حکومت نے دلیل دی ہے کہ ہائی کورٹ نے گائے کے ذبیحہ پر مکمل امتناع کا حکم قانون کے دائرے سے باہر ہے۔ حکومت کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ، "عوامی مقامات پر گائے کے ذبیحہ کو روکنے کی ہدایت کی درخواست کرنے والی ایک رٹ پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے، ہائی کورٹ نے اس معاملے سے آگے بڑھ کر بقرعید کے موقع پر یا کسی دوسرے دن گائے اور بچھڑوں کے ذبیحہ پر مکمل پابندی عائد کر دی۔" 27 مئی کو ہائی کورٹ میں ہندو مکل کچی کے جنرل سکریٹری کے سوریا پرسانتھ کی طرف سے دائر مفاد عامہ کی عرضی کی سماعت ہوئی۔ اس میں عوامی مقامات پر گائے کے ذبیحہ کو روکنے کی ہدایت جاری کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ اس کے برعکس ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو اس بات کو یقینی بنائے کی ہدایت دی کہ، بقرعید کے موقع پر یا کسی دوسرے دن کوئی گائے یا بچھڑا ذبح نہ کیا جائے۔ حکومت نے عدالت عظمیٰ کے سامنے دلیل دی ہے کہ ہائی کورٹ نے مقررہ سلاٹر ہاؤسز میں بھی گائے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی عائد کی ہے، جو قانون میں اس وجہ سے غیر پائیدار ہے کہ یہ ریاست تمل ناڈو میں جانوروں کے ذبیحہ کے عمل کو کنٹرول کرنے والے قانونی فریم ورک کے خلاف ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ تمل ناڈو اینیمل پرزرویشن ایکٹ، 1958، تمل ناڈو اربن لوکل باڈیز ایکٹ، 1998، تمل ناڈو اربن لوکل باڈیز رولز، 2023، اور متعلقہ فوڈ سیفٹی ریگولیشنز جانوروں کے ذبیحہ کے ضابطے پر غور کرتے ہیں نہ کہ مکمل پابندی۔ تمل ناڈو حکومت نے ہائی کورٹ کے اس حکم پر کارروائی کرتے ہوئے عبوری حکم امتناعی کا مطالبہ کیا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments