National

جھارکھنڈ میں راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس کو بڑا جھٹکا

جھارکھنڈ میں راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس کو بڑا جھٹکا

رانچی،18جون:جھارکھنڈ میں دو سیٹوں کے لیے ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس کو بڑا جھٹکا لگا ہے ۔این ڈی اے کے حمایت یافتہ آزاد امیدوارپریمل ناتھوانی کو 28 اور جے ایم ایم کے بیجناتھ رام کو 31 ووٹ ملے، جبکہ کانگریس کے پرنو جھا کو صرف19 ووٹ ملے۔ بی جے پی کے دو اور جے ایم ایم اتحاد کا ایک ووٹ مسترد کر دیا گیا۔ ان کے حق میں ڈالے گئے دو ووٹ کالعدم قرار دیے گئے۔ وہیں کانگریس کے پرنو جھا کا ایک ووٹ منسوخ کر دیا گیا۔ نتھوانی کو 30 ووٹ ملے۔ ان میں سے دو ووٹ منسوخ کر دئے گئے۔ اس سے قبل جھارکھنڈ کے تمام 81 ایم ایل ایز نے اپنا ووٹ ڈالا۔ ووٹنگ صبح 9 بجے شروع ہوئی اور شام چار بجے تک جاری رہی۔ گنتی شام 5 بجے شروع ہوئی۔ ووٹنگ کے دوران وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو بی جے پی ایم ایل اےز کے ساتھ گپ شپ کرتے اور چائے کا لطف لیتے ہوئے دیکھا گیا۔ بی جے پی کے نوین جیسوال نے پہلا اور جے ایم ایم کے سدبیہ کمار سونو نے آخری ووٹ ڈالا۔سی ایم کے پہنچنے کے بعد کانگریس کے ایم ایل ایز نے اپنا ووٹ ڈالا۔انڈیا الائنس کے ایم ایل اےز نے مل کر ووٹ کیا۔اسمبلی کے کمرہ نمبر 42 میں ووٹنگ ہوئی۔بی جے پی اور کانگریس کے اراکین اسمبلی بس کے ذریعے اسمبلی پہنچے تھے۔ این ڈی اے کے تمام 24 ایم ایل ایز رانچی کے ریڈیسن بلو ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ مشترکہ ناشتے کے بعد سب ایک ساتھ اسمبلی کے لیے روانہ ہوئے۔ووٹنگ سے پہلے وہ بس سے اسمبلی پہنچے۔ اترتے ہی انہوں نے "جئے شری رام، جئے جگناتھ" کا نعرہ لگایا ۔ ڈمری سے جے ایل کے ایم کے ایم ایل اے جے رام مہتو نے کس کو ووٹ دیا؟ یہ سوال اس لئے پیدا ہوا کیونکہ انہوں نے این ڈی اے، کانگریس یا جے ایم ایم کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان نہیں کیا تھا۔ مہتو نے واضح طور پر کہا کہ آل انڈیا اتحاد اور این ڈی اے دونوں نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان سے مختلف جماعتوں کے رہنماو¿ں کے ساتھ ساتھ سی ایم آفس نے بھی رابطہ کیا تھا۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ آخر کار کس امیدوار کی حمایت میں رہے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے مہتو نے کہا کہ وہ کسی خاص پارٹی کے ساتھ نہیں ہیں بلکہ جھارکھنڈ کی ترقی اور ریاست کے وژن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کیمپوں کے درمیان انتخاب آئینی عمل کا حصہ ہے لیکن ان کی ترجیح ریاست کا مفاد اور خطے کی ترقی ہے۔مہتو نے کہا کہ ذاتی خواہشات کی بنیاد پر فیصلے نہیں کیے جا سکتے، کیونکہ جمہوری نظام اور آئینی ذمہ داریوں کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ حمایت حاصل کرنے کے بی جے پی ایم ایل اے پردیپ پرساد کے دعوے کے بارے میں مہتو نے کہا کہ ان کی ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے تمام پارٹیوں اور بہت سے ایم ایل ایز کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، لیکن ووٹ دینا ان کا ذاتی حق ہے۔ہارس ٹریڈنگ کے سوال پر مہتو نے خود کو ’آزاد پرندہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی کیمپ کا مستقل حصہ نہیں ہیں اور اپنا فیصلہ آزادانہ طور پر کریں گے۔بار بار سوالات کے باوجود مہتو نے اپنا کارڈ نہیں کھولا۔ انہوں نے کہا کہ قسمت نے اس بار ان کے ووٹ کو خاص بنایا ہے، کیونکہ وہ کسی اتحاد کا حصہ نہیں ہیں۔ ایسے میں کچھ سسپنس ہونا چاہیے ۔ نتھوانی کی جیت نے ریاست کی سیاست میں گرینڈ الائنس کے اتحاد پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ انتخابات سے پہلے انڈیا اتحاد کے لیڈروں نے دونوں سیٹوں پر جیت کا دعویٰ کیا تھا۔ کانگریس اور جے ایم ایم کے رہنماو¿ں نے کہا تھاکہ اتحاد متحد ہے اور کراس ووٹنگ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تاہم انتخابی نتائج نے ان دعوو¿ں کو بے نقاب کردیا۔ نتھوانی کی جیت نے واضح کر دیا کہ گرینڈ الائنس میں سیاسی دراڑیں موجود ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ کانگریس امیدوار پرنو جھا مطلوبہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے اور دوسری نشست سے محروم ہوگئے۔یہ نتائج بتاتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں جھارکھنڈ کی سیاست میں نئے مساوات ابھر سکتے ہیں۔یہ نتائج ریاستی سیاست اور مستقبل میں اتحاد کی حکمت عملی کو متاثر کر سکتے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments