National

جھارکھنڈ میں بلدیاتی انتخابات سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان اختتام پذیر، 62 فی صد سے زائد ووٹنگ درج

جھارکھنڈ میں بلدیاتی انتخابات سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان اختتام پذیر، 62 فی صد سے زائد ووٹنگ درج

رانچی، 23 فروری : جھارکھنڈ میں پیر کوبلدیاتی انتخابات سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان مجموعی طور پر پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہو گئے ۔ ریاست بھر میں ووٹرز نے جوش و خروش کے ساتھ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا اور مجموعی طور پر 62 فیصد سے زائد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ صبح سے ہی پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔ خاص طور پر خواتین اور نوجوان ووٹرز میں ووٹنگ کے حوالے سے نمایاں جوش و جذبہ دیکھا گیا۔ اگرچہ بیشتر مقامات پر پولنگ پرامن رہی، تاہم چند مقامات پر کشیدگی اور ہنگامے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ انتظامیہ کی جانب سے ریاست بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے ۔ حساس علاقوں میں اضافی پولیس فورس تعینات رہی، جبکہ اعلیٰ افسران دن بھر مختلف پولنگ مراکز کا معائنہ کرتے رہے ۔ بوکارو کے چاس میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر 32 میں انتخابات کے دوران ہنگامہ آرائی کی صورتحال پیدا ہو گئی، جہاں وارڈ کونسلر امیدوار ریکھا دیوی اور ان کے حامیوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہو گئی، جس میں چاس کے ایس ڈی پی او زخمی ہو گئے ۔ ادھر گرڈیہہ میں بلدیاتی انتخابات کے بعد وارڈ نمبر 18 کے آزاد نگر ہریجن ٹولہ واقع بوتھ نمبر 3 سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر دو فریقین کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی۔ اس دوران فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا، جس میں دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔ جھارکھنڈ ریاستی انتخابی کمیشن کے سکریٹری رادھے شیام پرساد نے بتایا کہ صبح سات بجے سے شام پانچ بجے تک مجموعی طور پر 61.84 فیصد ووٹنگ درج کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اضلاع سے موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق مجموعی طور پر انتخابات پرامن طریقے سے مکمل ہوئے ۔ دریں اثنا پدم شری اور سینئر صحافی بلبیر دت رانچی میں اپنا ووٹ ڈالنے سے محروم رہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 1957 سے مسلسل ووٹنگ کرتے آ رہے ہیں، لیکن اس بار ووٹر لسٹ میں ان کا نام شامل نہ ہونے کے باعث وہ اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کر سکے ۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments