National

’گانجا‘ بیان معاملے میں افضال انصاری کو ہائی کورٹ سے راحت نہیں، ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی دی اجازت

’گانجا‘ بیان معاملے میں افضال انصاری کو ہائی کورٹ سے راحت نہیں، ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی دی اجازت

پریاگ راج: الہ آباد ہائی کورٹ نے ہفتہ کے روز غازی پور سے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری کو ’گاںجا‘ سے متعلق بیان کے معاملے میں بڑی راحت دینے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ، عدالت نے انہیں ٹرائل کورٹ میں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ عرضی گزار ٹرائل کورٹ میں ڈسچارج درخواست داخل کر سکتا ہے اور گرفتاری پر روک کے لیے بھی وہاں مناسب عرضی دے سکتا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ٹرائل کورٹ درخواست گزار کی عرضی پر قانون کے مطابق غور کرتے ہوئے فیصلہ کرے۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے افضال انصاری کو 15 دن کے اندر ٹرائل کورٹ میں درخواست دائر کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس مدت کے دوران ان کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی نہ کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے تاکہ وہ قانونی عمل مکمل کر سکیں۔ قابل ذکر ہے کہ ستمبر 2024 میں غازی پور کوتوالی میں افضال انصاری کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ ان پر ’گاںجا‘ سے متعلق بیان کے ذریعے مذہبی جذبات بھڑکانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد پولیس نے ٹرائل کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی تھی اور سمن آرڈر بھی جاری کیا گیا تھا۔ افضال انصاری نے اسی چارج شیٹ اور سمن کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اگرچہ ہائی کورٹ سے انہیں براہ راست راحت نہیں ملی، لیکن عدالت نے انہیں نچلی عدالت میں اپنی دلیلیں پیش کرنے کا موقع دیتے ہوئے قانونی عمل کو آگے بڑھانے کا راستہ کھلا رکھا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments