National

جے رام رمیش کا اڈانی گروپ میں بے نامی سرمایہ کاری کا الزام، سیبی کی جانچ پر بھی سنگین سوالات

جے رام رمیش کا اڈانی گروپ میں بے نامی سرمایہ کاری کا الزام، سیبی کی جانچ پر بھی سنگین سوالات

کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے اڈانی گروپ سے متعلق ایک بار پھر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تازہ انکشافات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اڈانی کے قریبی ساتھی چانگ چنگ لِنگ اور ناصر علی شعبان اہلی نے مبینہ طور پر بے نامی فنڈز کے ذریعے اڈانی گروپ کی مختلف کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر حصص جمع کیے۔ جے رام رمیش کے مطابق رپورٹ میں ایسے شواہد شامل ہیں جن سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مذکورہ افراد کے پاس اڈانی کمپنیوں میں پہلے سے اندازہ لگائے گئے حصص سے کہیں زیادہ حصہ داری موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2023 تک مختلف ہیج فنڈز کے ذریعے تقریباً تین ارب ڈالر مالیت کے شیئرز ان کے کنٹرول میں ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ رمیش نے اس انکشاف کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سرمایہ بازار کی شفافیت اور ضابطوں پر عمل درآمد سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا یعنی سیبی، کی جانب سے اڈانی کاروباری گروپ سے متعلق زیر التوا معاملات میں خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ ان کے مطابق 24 میں سے 22 معاملات اب بھی مکمل جانچ کے منتظر ہیں۔ ان معاملات میں اندرونی تجارت، کم از کم عوامی شیئر ہولڈنگ کے اصولوں کی خلاف ورزی، مشتبہ لین دین اور شیل کمپنیوں کے ذریعے خطیر رقوم کی منتقلی جیسے نکات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مارچ 2023 میں ہدایت دی تھی کہ جانچ دو ماہ کے اندر مکمل کی جائے لیکن تین سال گزرنے کے باوجود حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ جے رام رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی کے 2014 میں برسبین میں منعقدہ جی-20 اجلاس کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اقتصادی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف عالمی تعاون اور منی لانڈرنگ کے خاتمے کی بات کی گئی تھی۔ ان کے مطابق موجودہ حالات ان بیانات کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اڈانی گروپ کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے اور اسی وجہ سے معاملات کی جانچ میں تاخیر ہو رہی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments