Entertainment

فلم ’دی کیرالہ اسٹوری 2‘ کا ٹریلر مذاق بن گیا، لوگوں کا ’بیف پراٹھہ‘ طنز کیساتھ ردعمل

فلم ’دی کیرالہ اسٹوری 2‘ کا ٹریلر مذاق بن گیا، لوگوں کا ’بیف پراٹھہ‘ طنز کیساتھ ردعمل

بالی وڈ کی آنے والی فلم ’دی کیرالہ اسٹوری 2‘ کا آفیشل ٹریلر ریلیز ہونے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر سوشل میڈیا پر مذاق بن گیا۔ میڈیا کے مطابق ’دی کیرالہ اسٹوری 2‘ کے ٹریلر پر بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین نے میمز کے ذریعے اس کی مخالفت میں پیش قدمی کی۔ ٹریلر کا ایک منظر جس میں ایک زیر حراست خاتون بیف (بڑے کا گوشت) کی پلیٹ کو ٹھوکر مار کر یہ اعلان کرتی ہے کہ ’بھوکی مر جاؤں گی لیکن بیف کبھی نہیں کھاؤں گی‘، اور پھر اسے زبردستی کھلایا جاتا ہے، آن لائن تمسخر کا خاص نشانہ بنا ہوا ہے۔ اس کے جواب میں خواتین صارفین کی بڑی تعداد نے اپنی بیف کھاتے ہوئے ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ یہاں یہ کوئی ممنوعہ چیز نہیں۔ ساتھ ہی ایسی میمز کی بھرمار نظر آئی جن میں فلمسازوں کا حقیقت سے دور ہونے پر مذاق اڑایا گیا۔ ایک اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو میں ٹریلر کا رخ ہی موڑ دیا گیا جس میں دکھایا گیا کہ اداکار فلمسازوں کا مذاق اڑانے کیلیے بیچ میں ہی رک جاتے ہیں اور آخر میں مظلوم اور ظالم دونوں مل کر ہنستے ہوئے بیف کھا رہے ہیں۔ ایک اور پوسٹ میں ایک خاتون ٹریلر دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دیتی ہیں کہ فلمسازوں کو یقیناً کیرالہ کی خواتین کو پہچاننے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔ ’ بریکنگ نیوز‘ کے انداز میں کیے گئے ایک طنزیہ تبصرے میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹریلر ریلیز ہونے کے بعد کیرالہ میں بیف کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ ایک اور صارف نے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ شاید زیر حراست خاتون نے بیف اس لیے مسترد کر دیا کیونکہ اسے ’پراٹھہ‘ کے ساتھ پیش نہیں کیا گیا تھا جو کہ کیرالہ کے مشہور ’بیف پراٹھہ‘ کمبو کی طرف ایک واضح اشارہ تھا۔ یاد رہے کہ کیرالہ میں اسی طرح کا ردعمل اس وقت بھی دیکھا گیا تھا جب گزشتہ سال 71ویں نیشنل فلم ایوارڈز میں اس فلم کے پہلے حصے کو بہترین ہدایت کار اور بہترین سنیماٹوگرافر کے ایوارڈز دیے گئے تھے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments