National

دہلی یونیورسٹی میں ہنگامہ، دھرنے پربیٹھیں طالبات ، اضافی فیس وصول کرنے اور ہاسٹل جبراًخالی کرانے کا الزام

دہلی یونیورسٹی میں ہنگامہ، دھرنے پربیٹھیں طالبات ، اضافی فیس وصول کرنے اور ہاسٹل جبراًخالی کرانے کا الزام

دہلی یونیورسٹی کا نام ملک کے ٹاپ تعلیمی اداروں میں لیا جاتا ہے۔ یہاں ہزاروں طلبہ و طالبات ملک کے کونے کونے سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ داخلوں کے وقت پورے ملک میں ڈی یو کا زبردست کریز رہتا ہے لیکن آج یہ دوسری وجوہات کی بنا پر خبروں میں ہے۔ یہاں کے ویمن ہاسٹل میں رہنے والی طالبات نے یونیورسٹی انتظامیہ پر اضافی فیس وصول کرنے اور زبردستی ہاسٹل خالی کرانے کا الزام لگایا ہے۔ اس معاملے پر جمعرات( 21 مئی ) کی رات 9:30 بجے سے احتجاج شروع ہوا، جو آدھی رات کے بعد تقریباً 1 بجے تک جاری رہا۔ دہلی یونیورسٹی کے یونیورسٹی ہاسٹل فار ویمن میں جمعرات دیر رات طالبات کا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ زبردستی ہاسٹل خالی کرانے، اضافی فیس وصول کرنے اور بنیادی سہولیات میں کٹوتی کے الزامات کو لے کر طالبات نے انتظامیہ کے خلاف دھرنا شروع کیا، جو رات تقریباً 1 بجے تک جاری رہا۔ احتجاج کرنے والی طالبات کا کہنا ہے کہ سمسٹر امتحانات اور نیٹ ( امتحان کی تیاری کے دوران انتظامیہ کی جانب سے دباؤ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ طالبات کے مطابق ہاسٹل کے دو بلاکس میں پانی کی سپلائی بند کر دی گئی ہے اور ریڈنگ روم سے کرسیاں بھی ہٹا دی گئی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ یہ اقدامات انہیں ہاسٹل خالی کرنے پر مجبور کرنے کے مقصد سے کیے گئے ہیں۔ طالبات نے دعویٰ کیا کہ مئی کے مہینے میں ہاسٹل خالی کرانے کی مہم چلائی جا رہی ہے جب کہ جون اور جولائی تک کی فیس پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بغیر پیشگی اطلاع کے اچانک اضافی قواعد نافذ کیے جا رہے ہیں، جس سے طالبات میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ 16 مئی کو ہونے والے احتجاج کے بعد ہاسٹل انتظامیہ نے مبینہ طور پر سہولیات بحال کرنے اور رہائش کی مدت بڑھانے کی زبانی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم احتجاج کرنے والی طالبات کا الزام ہے کہ بعد میں انتظامیہ اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئی اور ہاسٹل میں رہنے کے لیے یومیہ 450 روپے اضافی فیس عائد کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments