نئی دہلی: سال 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران ایک مسلم نوجوان کی پولیس تشدد سے ہوئی موت کے معاملے میں عدالت نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے سی بی آئی کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ کا نوٹس لیا ہے۔ دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے اس کیس میں دہلی پولیس کے دو اہلکاروں کو طلب کرتے ہوئے 24 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی ہے جب دہلی ہائی کورٹ نے پولیس جانچ میں سنگین خامیاں پاتے ہوئے معاملہ سی بی آئی کے سپرد کیا تھا۔ یہ کیس 23 سالہ نوجوان فیضان کی موت سے متعلق ہے، جو فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران پولیس کی مبینہ مارپیٹ کے بعد جان کی بازی ہار گیا تھا۔ فسادات کے دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں چند پولیس اہلکار فیضان کو لاٹھیوں سے پیٹتے ہوئے اور زبردستی قومی ترانہ گانے پر مجبور کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ بعد میں شدید زخمی حالت میں فیضان کو پولیس حراست میں لیا گیا، جہاں اس کی حالت مزید بگڑ گئی اور آخرکار اس کی موت ہو گئی۔ ابتدائی طور پر اس معاملے کی جانچ دہلی پولیس نے کی، تاہم پولیس کی تفتیش میں کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ متاثرہ خاندان نے پولیس جانچ پر سوال اٹھاتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ جولائی 2024 میں دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کی جانچ کو ناکافی اور غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اس معاملے کی جانچ مرکزی تفتیشی بیورو، یعنی سی بی آئی، کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔ سی بی آئی نے تفصیلی جانچ کے بعد دہلی پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل رویندر کمار اور کانسٹیبل پون یادو کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ چارج شیٹ میں ان پر بھارتی تعزیرات ہند کی دفعات 323، 325 اور 304(II) کے تحت مارپیٹ، سنگین چوٹ پہنچانے اور غیر ارادی قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد ان الزامات کی تصدیق کرتے ہیں۔ راؤز ایونیو کورٹ کے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ مینک گوئل نے سی بی آئی کی چارج شیٹ پر غور کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ میں موجود شواہد الزامات کے لیے کافی ہیں۔ عدالت نے چار فروری کے اپنے حکم میں واضح کیا کہ آئی پی سی کی دفعات کے تحت جرم کا نوٹس لینے کے لیے معقول بنیاد موجود ہے، جس کے بعد دونوں ملزمین کو عدالت میں حاضر ہونے کے لیے سمن جاری کیے گئے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں دہلی پولیس پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ واقعہ نفرت پر مبنی جرم کے زمرے میں آتا ہے، اس کے باوجود پولیس کی جانچ نہایت سست اور ادھوری رہی۔ جسٹس انوپ جے رام بھمبھانی نے کہا تھا کہ جن افراد پر حملے کا شبہ تھا، وہ خود قانون کے محافظ تھے، اس کے باوجود انہیں جانچ کے دوران خاطر خواہ طور پر کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اس سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ جن پر الزام ہے وہ بااختیار عہدوں پر فائز تھے اور ان سے قانون کی پاسداری کی توقع کی جاتی ہے، مگر ان کا رویہ جانبدارانہ اور متعصبانہ نظر آیا۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ جب ملزم اور جانچ کرنے والا ادارہ ایک ہی ہو، تو اس جانچ پر عوام کا اعتماد قائم نہیں رہ سکتا۔ عدالت کے مطابق دہلی پولیس کی جانچ میں متعدد خامیاں اور تاخیر سامنے آئی ہیں، جس کی وجہ سے متاثرہ خاندان کو انصاف ملنے میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ اسی بنیاد پر معاملہ سی بی آئی کو منتقل کیا گیا تاکہ جانچ کی ساکھ برقرار رہے اور متاثرین کا عدالتی نظام پر اعتماد بحال ہو سکے۔ یہ حکم فیضان کی والدہ قسمتُن کی عرضی پر دیا گیا تھا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کے بیٹے کو کردمپوری میں پولیس اہلکاروں نے بری طرح مارا پیٹا، پھر غیر قانونی طور پر جیوتی نگر پولیس اسٹیشن میں حراست میں رکھا گیا، جہاں اسے بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ ان کا الزام ہے کہ اسی لاپروائی اور تشدد کے باعث فیضان کی موت واقع ہوئی۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس میں سی بی آئی کی چارج شیٹ اور عدالت کا نوٹس لینا ایک اہم قدم ہے، جو نہ صرف متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کی امید ہے بلکہ مستقبل میں پولیس احتساب کے حوالے سے بھی ایک مضبوط مثال قائم کر سکتا ہے۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو