Entertainment

دہلی ہائی کورٹ نے راجپال یادو کو چیک باؤنس معاملے میں 18 مارچ تک عبوری راحت دی

دہلی ہائی کورٹ نے راجپال یادو کو چیک باؤنس معاملے میں 18 مارچ تک عبوری راحت دی

نئی دہلی: چیک باؤنس کیس میں بالی ووڈ اداکار راجپال یادو کو بڑی راحت دیتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز ان کی سزا پر 18 مارچ تک عبوری روک لگا دی۔ جسٹس سورن کانت شرما کی بنچ نے حکم جاری کرتے ہوئے ہدایت دی کہ راجپال یادو ایک لاکھ روپے کا ذاتی مچلکہ اور اتنی ہی رقم کا ایک ضامن پیش کریں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ مدعا علیہ کی جانب سے ڈیڑھ کروڑ روپے (1.5 کروڑ) مدعی کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائے جا چکے ہیں، جسے راحت دیتے وقت پیش نظر رکھا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مقررہ شرائط پوری کرنے کی صورت میں اداکار 18 مارچ تک حراست سے باہر رہیں گے، جب اس معاملے کی دوبارہ سماعت ہوگی۔ یہ پیش رفت اُس وقت ہوئی جب نجی کمپنی ایم/ایس مرلی پروجیکٹ کے وکیل ایڈووکیٹ اونیت سنگھ سِکّا نے عدالت کو بتایا کہ راجپال یادو نے باؤنس چیک کی رقم کے عوض کمپنی کے بینک اکاؤنٹس میں ڈیڑھ کروڑ روپے جمع کرا دیے ہیں۔ دن میں پہلے سماعت کے دوران یادو کے وکیل ایڈووکیٹ بھاسکر اپادھیائے نے عدالت کو بتایا کہ وہ بغیر کسی شرط کے فکسڈ ڈپازٹ رسید (ایف ڈی آر) کے ذریعے ڈیڑھ کروڑ روپے جمع کرانے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم جسٹس سوارنا کانتا شرما نے ہدایت دی کہ رقم ڈیمانڈ ڈرافٹ (ڈی ڈی) کے ذریعے ادا کی جائے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ 25 لاکھ روپے پہلے ہی ڈیمانڈ ڈرافٹ کے ذریعے مدعا علیہان کے نام جمع کرائے جا چکے ہیں، جبکہ اس سے قبل 75 لاکھ روپے کا ایک اور ڈی ڈی بھی جمع کرایا گیا تھا۔ اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے یادو کی ضمانت کی درخواست پر شکایت کنندہ سے جواب طلب کیا تھا اور ان کے وکیل کی درخواست پر معاملہ پیر کے لیے درج کیا تھا۔ گزشتہ سماعت کے دوران اداکار کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ضمانت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے اور تصفیے کی راہ نکالنے کے لیے وقت درکار ہے، کیونکہ وہ اداکار سے رابطہ نہیں کر پا رہے تھے۔ بنچ نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے شکایت کنندہ کو جواب داخل کرنے کی ہدایت دی اور معاملے کو مزید غور کے لیے ملتوی کر دیا۔ عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ راجپال یادو کو پہلے عدالت میں کیے گئے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے پر جیل بھیجا گیا تھا۔ عدالت نے کیس فائل کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کئی نکات سامنے آئے ہیں اور پہلے کے حکم کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا جا چکا ہے، جہاں سے کوئی راحت نہیں ملی۔ اس سے قبل ہائی کورٹ نے چیک ڈِس آنر کے متعدد معاملات میں راجپال یادو کو دی گئی نرمی واپس لیتے ہوئے انہیں متعلقہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا تھا کہ انہوں نے تصفیے کی رقم کی ادائیگی سے متعلق عدالت کو دیے گئے یقین دہانیوں کی بارہا خلاف ورزی کی۔ یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا کو پہلے تصفیے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے معطل کیا گیا تھا، تاہم وقتاً فوقتاً کیے گئے وعدے پورے نہ ہونے کے باعث یہ کارروائی عمل میں آئی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments