National

ضلع پریشد و پنچایت سمیتی نتائج : دیہی مہاراشٹر میں مہایوتی اتحاد کی مضبوط کارکردگی ، مراٹھواڑہ میں بی جے پی بطور غالب قوت ابھری

ضلع پریشد و پنچایت سمیتی نتائج : دیہی مہاراشٹر میں مہایوتی اتحاد کی مضبوط کارکردگی ، مراٹھواڑہ میں بی جے پی بطور غالب قوت ابھری

ممبئی ، 9 فروری :مہاراشٹر کی ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی انتخابات کے حتمی نتائج پیر کو جاری کر دیے گئے ، جن سے حکمراں مہایوتی اتحاد کی فیصلہ کن برتری کی تصدیق ہوئی۔ یہ انتخابات 07 فروری 2026 کو منعقد ہوئے تھے اور نتائج 09 فروری 2026 کو سامنے آئے ۔ مہایوتی اتحاد میں بی جے پی، ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا اور آنجہانی اجیت پوار کی قیادت سے وابستہ این سی پی دھڑا شامل ہے ۔ ریاست کے 12 اضلاع میں 727 ضلع پریشد نشستوں پر یہ انتخاب ہوا، جہاں مجموعی ووٹر ٹرن آ¶ٹ تقریباً 68 فی صد رہا۔ یہ دیہی انتخابات آنجہانی سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے گزشتہ ماہ طیارہ حادثے میں انتقال کے بعد پہلا بڑا سیاسی امتحان مانے جا رہے ہیں۔ ریاست گیر رجحانات سے ظاہر ہوا کہ مہایوتی اتحاد نے کئی اضلاع میں سبقت حاصل کی، جبکہ کانگریس، شیو سینا (یو بی ٹی) اور شرد پوار کی قیادت والی این سی پی پر مشتمل مہا وکاس اگھاڑی کو کئی مقامات پر دھچکا لگا، اگرچہ بعض علاقوں میں اس کا اثر برقرار رہا۔ مراٹھواڑہ خطہ نتائج کے لحاظ سے خاص توجہ کا مرکز رہا، جہاں 5 اضلاع - اورنگ آباد، پربھنی، عثمان آباد، لاتور اور ناندیڑ - میں انتخابات ہوئے ۔ خطے میں اوسط ووٹر ٹرن آ¶ٹ تقریباً 65 فی صد رہا اور حکام کے مطابق پولنگ یا گنتی کے دوران کوئی بڑی بے ضابطگی رپورٹ نہیں ہوئی۔ نتائج نے خاص طور پر بی جے پی کے حق میں اتحاد کی مضبوطی کو ظاہر کیا، جو روایتی طور پر این سی پی کے اثر و رسوخ اور زرعی مسائل سے وابستہ علاقہ سمجھا جاتا ہے ۔ اورنگ آباد میں 62 نشستوں کے مقابلے میں بی جے پی نے 23، شیو سینا (شندے ) نے 20 اور این سی پی (اجیت پوار دھڑا) نے 5 نشستیں حاصل کیں۔ کانگریس کو 1 اور شیو سینا (یو بی ٹی) کو 9 نشستیں ملیں، جبکہ شرد پوار کی قیادت والی این سی پی اور دیگر جماعتیں کوئی نشست حاصل نہ کر سکیں۔ یہ نتیجہ 2017 کے مقابلے میں بی جے پی کے لیے معمولی بہتری کی علامت ہے ، جب پارٹی نے 22 نشستیں جیتی تھیں۔ پربھنی میں 54 نشستوں پر مہایوتی کو واضح اکثریت ملی۔ بی جے پی نے 24، شیو سینا (شندے ) نے 5 اور این سی پی (اجیت پوار دھڑا) نے 15 نشستیں جیتیں۔ کانگریس کو 3، شیو سینا (یو بی ٹی) کو 6 نشستیں ملیں، جبکہ 1 نشست ایک آزاد امیدوار کے حصے میں آئی۔ عثمان آباد میں کل 55 نشستوں میں بی جے پی 18 نشستوں کے ساتھ آگے رہی، شیو سینا (شندے ) کو 15 اور این سی پی (اجیت پوار دھڑا) کو 6 نشستیں ملیں۔ کانگریس نے 8، شرد پوار کی این سی پی نے 3 نشستیں حاصل کیں، جبکہ دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو مجموعی طور پر 5 نشستیں ملیں، جس سے مہایوتی کو مجموعی طور پر آرام دہ برتری ملی۔ لاتور میں 58 نشستوں کے ساتھ تصویر نسبتاً متوازن رہی۔ کانگریس نے 23 نشستیں جیتیں، بی جے پی کو 18 اور این سی پی (اجیت پوار دھڑا) کو 12 نشستیں ملیں۔ شیو سینا (شندے ) اور این سی پی (شرد پوار دھڑا) کو 1-1 نشست ملی، جبکہ 4 نشستیں دیگر کے حصے میں گئیں، جو اس روایتی کانگریس-این سی پی مضبوط گڑھ میں اپوزیشن کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے ۔ ناندیڑ میں بھی 58 نشستیں ہیں، تاہم رپورٹ کے وقت جماعتی تفصیلات مکمل طور پر دستیاب نہیں تھیں۔ ابتدائی اشارے مہایوتی اتحاد کے حق میں بتائے گئے ، جو حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ملے جلے نتائج کے بعد دیہی علاقوں میں اس کی بحالی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ نتائج جنوری 2026 میں منعقدہ میونسپل کارپوریشن انتخابات میں مہایوتی کی مضبوط کارکردگی کے بعد اس کے سیاسی برتری میں اضافہ کرتے ہیں، جہاں اتحاد نے متعدد بلدیاتی اداروں پر کنٹرول حاصل کیا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ضلع پریشد کے یہ نتائج آئندہ انتخابی معرکوں سے قبل، خاص طور پر مہاراشٹر کے دیہی قلب میں، ریاستی قیادت کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوں گے ۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments