National

دہلی فسادات کیس: سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا

دہلی فسادات کیس: سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کیس میں عمر خالد اور شرجیل امام سمیت دیگر ملزمان کی ضمانت درخواست پر فیصلہ سنا دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس معاملے میں دیگر پانچ ملزمان گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست کو مسترد کیے جانے کے فیصلے کو ملزمان نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ معاملہ ملک کی سکیورٹی سے جڑا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ دیگر ملزمین کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ عمر خالد اور شرجیل امام سے ان کا معاملہ الگ ہے۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجریا کی بنچ نے کہا کہ انہوں (عمر خالد اور شرجیل امام) نے مبینہ جرائم میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جبکہ دونوں ملزمان کافی عرصے سے جیل میں ہیں، لیکن مقدمے کی سماعت میں تاخیر 'ٹرمپ کارڈ' کے طور پر کام نہیں کرتی ہے جو خود بخود قانونی تحفظات کو ہٹا دیتا ہے۔ اس سے آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی نہیں ہوتی اور نہ ہی قوانین کے تحت قانونی رکاوٹ کو ختم کرتی ہے۔ سپریم کورٹ سے اپنے بیٹے عمر خالد کی درخواست ضمانت مسترد ہونے پر سید قاسم رسول الیاس کافی افسردہ نظر آئے۔ سپریم کورٹ کے احاطہ میں انھوں نے کہا کہ، میں کچھ نہیں کہنا چاہتا، میں نے فیصلہ سن لیا ہے۔ ضمانت پانے والی گلفشہ فاطمہ کے وکیل ایس جاوید نے اپنے مؤکل کو ضمانت ملنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا، "ہمیں خوشی ہے کہ آج پانچ افراد کو ضمانت مل گئی، وہ ساڑھے پانچ سال بعد جیل سے باہر آئیں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کے اہل خانہ کے لیے بہت بڑی راحت یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ایک سال بعد ضمانت کی درخواست دینے کی آزادی دی ہے، عدالت نے پولیس اور ٹرائل کو ہدایت کی ہے کہ کیس کو تیزی سے چلایا جائے، اور ایک سال کے اندر تمام گواہوں پر جرح کی جائے۔ عمر خالد، امام اور باقی ملزمان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) اور آئی پی سی کی دفعات کے تحت مبینہ طور پر فروری 2020 کے فسادات کے ماسٹر مائنڈ ہونے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا،۔ دہلی فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ 2020 میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہروں کے دوران دہلی میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ یہ ملزمان، جنہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات سے انکار کیا ہے، 2020 سے جیل میں ہیں اور دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست کی تھی۔ دوسری جانب امریکی قانون سازوں کے ایک گروپ نے امریکہ میں ہندوستانی سفیر ونے کواترا کو خط لکھا ہے کہ خالد کو ضمانت دی جائے اور "بین الاقوامی قانون کے مطابق منصفانہ، بروقت ٹرائل" کو یقینی بنایا جائے۔ خط میں 2020 دہلی فسادات کے سلسلے میں الزامات عائد کیے جانے والے خالد سمیت دیگر افراد کی طویل پری ٹرائل حراست کے بارے میں تشویش" کا اظہار کیا گیا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments