National

ضابطۂ اخلاق معاملہ: جھارکھنڈ ہائی کورٹ کا ہیمنت سورین کے خلاف ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم

ضابطۂ اخلاق معاملہ: جھارکھنڈ ہائی کورٹ کا ہیمنت سورین کے خلاف ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم

رانچی: جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے ایک اہم قانونی راحت حاصل ہوئی ہے۔ عدالت نے 2014 کے جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے دوران ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرتے ہوئے اس مقدمے سے متعلق تمام عدالتی کارروائیوں کا خاتمہ کر دیا۔ جسٹس انل کمار چودھری کی عدالت نے فریقین کے دلائل، سرکاری ریکارڈ اور قانونی نکات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ دستیاب حقائق اور قانونی بنیادوں کی روشنی میں اس مقدمے کو برقرار رکھنے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں ہے، اس لیے ایف آئی آر کو منسوخ کیا جاتا ہے۔ یہ مقدمہ 2014 کے جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے دوران مبینہ طور پر انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی سے متعلق تھا۔ اس سلسلے میں سرائیکیلا-کھرساواں ضلع کے آدتیہ پور تھانے میں مقدمہ نمبر 418/2014 کے تحت ہیمنت سورین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے اس ایف آئی آر کو قانونی طور پر غیر موزوں قرار دیتے ہوئے جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں اسے منسوخ کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔ یہ معاملہ کئی برسوں سے عدالت میں زیر سماعت تھا۔ مقدمے کی ابتدائی سماعت کے دوران ہی ہائی کورٹ نے نچلی عدالت میں جاری کارروائی پر عبوری روک لگا دی تھی، جس کے بعد مرکزی عرضی پر باقاعدہ سماعت کا سلسلہ جاری رہا۔ آخری سماعت کے دوران عدالت نے ریاستی حکومت اور درخواست گزار کی جانب سے پیش کیے گئے تمام دستاویزات، عدالتی ریکارڈ اور قانونی دلائل کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ مقدمے کو جاری رکھنے کے لیے خاطر خواہ قانونی بنیاد موجود نہیں، جس کے بعد ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی جانب سے سینئر وکیل پردیپ چندرا نے عدالت میں مؤقف پیش کیا۔ ہائی کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد دو ہزار چودہ کے اس مقدمے میں ان کے خلاف جاری تمام عدالتی کارروائیاں باضابطہ طور پر ختم ہو گئی ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments