ایس آئی آر پر خصوصی اجلاس سے پہلے کانگریس کا مطالبہ، امیت شاہ پہلے اپنے ’خاص آدمی‘ چیف الیکشن کمشنر کو ہٹائیں
کانگریس نے منگل کے روز ایس آئی آر کے معاملے پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کے لیے حکومت کی تیاری سے متعلق وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیان پر جوابی حملہ کیا۔ کانگریس نے کہا کہ اگر وہ اس تجویز کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں پہلے اپنے ”خاص آدمی“ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دلوانا چاہیے اور ایس آئی آر کا عمل بھی معطل کرنا چاہیے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبہ? مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہوئے 82 دن گزر چکے ہیں، لیکن اب تک پارلیمنٹ کا اجلاس باضابطہ طور پر ختم نہیں کیا گیا ہے۔
رمیش نے الزام لگایا، ”اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیر داخلہ اب بھی اس خیال پر غور کر رہے ہیں کہ لوک سبھا میں انتہائی داغدار دو تہائی اکثریت کے ذریعے حد بندی سے متعلق بل منظور کرانے کے لیے خصوصی اجلاس بلایا جائے۔“
انہوں نے کہا کہ ان بلوں کا مواد ابھی تک معلوم نہیں ہے، حالانکہ ان کا مقصد واضح ہے، یعنی 2029 میں بی جے پی کے سامنے نظر آنے والی شکست سے اسے بچانا۔
رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”دوسری جانب خود ساختہ چانکیہ، جو بلف بازی، بلند بانگ دعووں اور شور شرابے کے ماہر ہیں، کہتے ہیں کہ وہ ووٹ چوری پر بحث کے لیے خصوصی اجلاس بلانے کو تیار ہیں۔ گزشتہ سال جب پوری اپوزیشن نے ایس آئی آر پر بحث کا مطالبہ کیا تھا تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ ایس آئی آر الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔“
کانگریس رہنما نے کہا، ”اگر وزیر داخلہ ووٹ چوری پر خصوصی اجلاس بلانے کے معاملے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں پہلے اپنے خاص آدمی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دلوانا چاہیے۔ انہیں ایس آئی آر کا عمل بھی معطل کرنا چاہیے۔“
رمیش نے مزید کہا کہ یقیناً انہیں حد بندی سے متعلق اپنی نئی تجاویز بھی اپوزیشن کے ساتھ کافی پہلے شیئر کرنی چاہئیں۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ امیت شاہ میں ان تجاویز پر تفصیل سے بات کرنے کے لیے کل جماعتی میٹنگ بلانے کی ہمت کیوں نہیں ہے؟
رمیش کا یہ بیان امیت شاہ کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت اس معاملے پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کے لیے تیار ہے اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کو ایوان میں اس موضوع پر بحث کا چیلنج دیا تھا۔
اتوار کے روز دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی کو ”دراندازوں کو بچاو¿“ ریلی قرار دیتے ہوئے شاہ نے سوال اٹھایا تھا کہ اگر ای وی ایم خراب ہیں تو کانگریس نے تلنگانہ سمیت کئی ریاستوں میں حکومت کیسے بنائی؟ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ راہل گاندھی صرف فرضی پارلیمنٹ میں وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔
یہاں بی جے پی کی ”جمہوریت بچاو¿، انارکی ہٹاو¿“ پد یاترا کی قیادت کرتے ہوئے شاہ نے کہا تھا، ”وہ (راہل) ہاتھ میں آئین رکھتے ہیں، لیکن آئین کا احترام نہیں کرتے۔ راہل جی، آپ پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دیتے۔ چاہے ای وی ایم کا معاملہ ہو، ایس آئی آر ہو یا دراندازوں کا، میں حیدرآباد سے آپ کو چیلنج دیتا ہوں۔ ہم پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کے لیے تیار ہیں۔ بحث کے لیے آئیے۔“
انہوں نے کہا تھا کہ اگر پارلیمنٹ کا اجلاس منعقد ہوا تو وزیر اعظم نریندر مودی ”کانگریس کے پرخچے اڑا دیں گے۔“ شاہ نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ ”انارکی“ کے ذریعے سرخیوں میں رہنا چاہتی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس انتخابی فہرستوں میں ”بنگلہ دیشی دراندازوں“ کو بچانے کے لیے ایس آئی آر کی کارروائی روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی انتخابی فہرستوں سے ہر درانداز کو باہر نکال دے گی۔
ایس آئی آر پر خصوصی اجلاس سے پہلے کانگریس کا مطالبہ، امیت شاہ پہلے اپنے ’خاص آدمی‘ چیف الیکشن کمشنر کو ہٹائیں...
Source: Admin