National

چمپت رائے کے استعفی سے رام مندر میں 'چندہ چوری' کی تصدیق ہوئی، پورا ٹرسٹ تحلیل کیا جائے : کانگریس

چمپت رائے کے استعفی سے رام مندر میں 'چندہ چوری' کی تصدیق ہوئی، پورا ٹرسٹ تحلیل کیا جائے : کانگریس

نئی دہلی، 6 جولائی: کانگریس نے کہا ہے کہ رام مندر ٹرسٹ کی جانب سے جنرل سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی انل مشرا کے استعفے قبول کیے جانے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے سامنے آ رہے 'چندہ چوری' کے الزامات کو خود ٹرسٹ نے تسلیم کر لیا ہے ۔ کانگریس کے شعبئہ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پر اپنے ردِعمل میں کہا کہ مسٹر رائے کا استعفیٰ کافی نہیں ہے ، بلکہ پورے ٹرسٹ کو ہی تحلیل کر دینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ کو تحلیل کر کے اس کی ازسرِنو تشکیل کی جائے اور اس معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پربھو رام مندر میں بے ضابطگیوں کے ذمہ دار افراد کو ہٹانا خوش آئند ہے ، لیکن ٹرسٹ کے خزانچی سمیت کسی بھی رکن کو جوابدہی سے استثنا نہیں ملنا چاہیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ کے مالی معاملات، شفافیت اور اثاثوں کے تحفظ کی ذمہ داری خزانچی پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ آر ایس ایس کے مشرقی اتر پردیش کے انچارج کرشن موہن کو ٹرسٹ کا جنرل سکریٹری بنا دیا گیا، جبکہ ان پر مبینہ گھوٹالے کو دبانے میں کردار ادا کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ملک مرحلہ وار استعفے نہیں بلکہ پورے ٹرسٹ کی تحلیل، اس کی ازسرِنو تشکیل اور ٹرسٹ کے تمام ارکان کے خلاف سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ تحقیقات چاہتا ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، اتر پردیش حکومت اور آر ایس ایس-وی ایچ پی کے کردار کی بھی جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بھگوان رام کے نام پر کروڑوں عقیدت مندوں کے عقیدے کا غلط استعمال کیا گیا ہے ۔

Source: uni news

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments