: وزیراعلیٰ نے اپنے گڑھ میں مسلمانوں سے 6 اکتوبر کے ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے ساتھ متحد ہونے کو کہا
وزیراعلیٰ س±ویندو ادھیکاری نے جمعہ کو ایک بار پھر خود کو سب کے رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے نندی گرام کے اقلیتی ووٹروں کی جانب ’دوستی کا ہاتھ‘ بڑھاتے ہوئے ان سے 6 اکتوبر کو ہونے والے اسمبلی ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے ساتھ متحد ہونے کی اپیل کی۔
یہ اپیل ان کے پہلے کے بیان کے مقابلے میں لہجے کی نمایاں تبدیلی تھی، جس میں انہوں نے اقلیتوں سے کہا تھا کہ وہ ضمنی انتخاب کو اس بات کے ’امتحان‘ کے طور پر دیکھیں کہ آیا وہ حکومت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔بی جے پی امیدوار ہسی رانی راتھ کی انتخابی مہم کے دوران س±ویندو نے براہِ راست مسلم ووٹروں سے خطاب کیا اور ان سے بی جے پی سے ’منہ نہ موڑنے‘ کی اپیل کی۔ انہوں نے 6 اکتوبر کو سیاسی دوستی قائم کرنے اور بی جے پی کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ”میں اپنے اقلیتی بھائیوں اور بہنوں سے کہتا ہوں کہ اب مزید منہ نہ موڑیں۔ یہ دوستی کا موقع ہے۔ آئیے ہم سب متحد ہوں اور 6 اکتوبر کو بی جے پی امیدوار کی کامیابی یقینی بنائیں۔“
س±ویندو نے مزید کہا، ”کیا اقلیتیں ہم سے منہ موڑیں گی؟ اس کا کیا فائدہ ہوگا؟ آپ ہمارے دوست ہیں۔ آئیے دوست بنیں۔ 6 تاریخ دوستی کے لیے مبارک دن ہے۔ ہاتھ ملا کر دوست بنیں۔ ہم سب کی فلاح کے لیے کام کریں گے۔ ہمارے رہنما نریندر مودی جی سب کے لیے کام کرتے ہیں اور وزیراعلیٰ بھی سب کے لیے کام کریں گے۔ اس لیے آپ کو دوستی کرنی ہوگی۔“
نندی گرام میں یہ اپیل اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہاں مسلم ووٹر مجموعی انتخابی فہرست کا تقریباً ایک چوتھائی ہیں اور قریبی مقابلے میں ان کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ کی یہ اپیل اس بیان کے تقریباً دو ہفتے بعد سامنے آئی ہے جو انہوں نے 15 ستمبر کو ہلدیہ میں ہسی رانی راتھ کے پرچہ نامزدگی داخل کرنے سے قبل دیا تھا۔اس وقت انہوں نے کہا تھا، ”آپ کے سامنے ایک موقع آیا ہے۔ کیا آپ حکومت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔ اگر آپ حکومت کے ساتھ، وزیراعلیٰ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، تعاون کرنا چاہتے ہیں، کام کرنا چاہتے ہیں اور فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو 6 اکتوبر ریجینگر اور نندی گرام میں آپ کے لیے امتحان کا دن ہے۔“
تاہم جمعہ کو ان کی تقریر میں مفاہمت اور ترقی پر زیادہ زور رہا۔ ادھیکاری نے صحت عامہ، انتظامیہ، اقتصادی ترقی، خاندانوں کی آمدنی میں اضافے، سماجی بہبود کی اسکیموں، رہائش اور اناپورنا یوجنا سمیت مختلف شعبوں میں اقدامات کا وعدہ کیا۔ انہوں نے آئی سی ڈی ایس کارکنوں، سول رضاکاروں، آشا کارکنوں اور ہوم گارڈز کے لیے تعاون کی بھی بات کی۔ اس کے علاوہ بہتر ٹرانسپورٹ رابطے، نئی ریلوے لائنوں، ہلدی ندی پر ہلدیہ اور نندی گرام کو جوڑنے والے پل اور اڈیشہ ساحلی نہر کی ترقی کا بھی ذکر کیا۔نندی گرام میں ادھیکاری کی جانب سے کیے گئے تمام عوامی اجلاسوں میں یہ متضاد لہجے نمایاں رہے—ایک طرف اقلیتوں سے اپنی سیاسی پسند ثابت کرنے کی اپیل، جبکہ دوسری جانب ’دوستی‘ اور سب کی ترقی کی یقین دہانی۔انہوں نے ایک مسلم شخص سے مخاطب ہوکر کہا، ”اگر ہم بوتھ پر جائیں گے تو ہمیں ایک برادری کے طور پر شناخت دی جائے گی۔ ہاں، ہم ’جے شری رام‘ کہتے ہیں۔ کوئی آپ کو ’جے شری رام‘ کہنے پر مجبور نہیں کرتا۔ اگر آپ نہیں کہنا چاہتے تو نہ کہیں؛ اس کے بجائے ’بھارت ماتا کی جے‘ کہیں۔“س±ویندو نے پہلی بار یہ بھی وضاحت کی کہ 2026 کے اسمبلی انتخابات میں بھوانی پور اور نندی گرام دونوں نشستوں سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے بھوانی پور کی نشست اپنے پاس کیوں رکھی اور نندی گرام کی نشست چھوڑ دی۔ انہوں نے کہا، ”اگرچہ نندی گرام میری محفوظ آبائی زمین تھی، لیکن میں نے نندی گرام چھوڑ دیا۔ میں نے بھوانی پور نہیں چھوڑا۔ کیونکہ اگر میں بھوانی پور چھوڑ دیتا تو شکست خوردہ امیدوار (ممتا بنرجی) کو وہاں موقع مل جاتا۔“انہوں نے ووٹروں سے اپوزیشن امیدواروں کی ضمانت ضبط کرانے کی اپیل کی اور ترنمول کانگریس پر ایک بار پھر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اس کا نام اور انتخابی نشان ای وی ایم پر نظر نہیں آئے گا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پارٹی کو اس کی شناخت سے محروم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آج نہ کوئی نام ہے، نہ کوئی نشان، نہ کوئی امیدوار۔“
: وزیراعلیٰ نے اپنے گڑھ میں مسلمانوں سے 6 اکتوبر کے ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے ساتھ متحد ہونے کو کہا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments