نئی دہلی: بہار کے ضلع بھوجپور میں بھرت بھوشن تیواری انکاؤنٹر معاملے کی سی بی آئی جانچ کے مطالبے پر دائر مفادِ عامہ کی عرضی پر سپریم کورٹ نے منگل کے روز سماعت سے انکار کر دیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے عرضی گزار کو ہدایت دی کہ وہ متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کرے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ عرضی گزار نے یہ درخواست کس حیثیت سے دائر کی ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل وشال تیواری نے عدالتِ عظمیٰ میں مفادِ عامہ کی عرضی دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ بھرت بھوشن تیواری انکاؤنٹر کی جانچ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے کرائی جائے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک آزاد اور غیر جانبدار ماہرین کمیٹی تشکیل دی جائے، جو پورے معاملے کی نگرانی کرے۔ اس کے علاوہ انکاؤنٹر میں شامل پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی بھی درخواست کی گئی تھی۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس شیل ناگو پر مشتمل بنچ نے عرضی پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے عرضی گزار سے استفسار کیا کہ انہوں نے یہ عرضی کس بنیاد اور کس حیثیت سے دائر کی ہے! عدالت نے واضح کیا کہ اگر عرضی گزار کو اس معاملے میں کوئی قانونی شکایت یا مطالبہ ہے تو وہ پہلے متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کریں، جہاں اس معاملے پر مناسب قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اس معاملے میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی جسٹس بی وی ناگرتنا کی سربراہی والی بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم اس وقت عدالت نے فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے عرضی گزار کو ہدایت دی تھی کہ وہ مقدمہ باقاعدہ فہرست میں شامل کرانے کے لیے سپریم کورٹ کی رجسٹری سے رابطہ کرے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ 17 جون کو بھوجپور میں پیش آئے انکاؤنٹر میں 28 سالہ بھرت بھوشن تیواری کی ہلاکت کے معاملے میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ عرضی گزار کا مؤقف ہے کہ انکاؤنٹر میں ہونے والی اموات ماورائے عدالت ہلاکتوں کے مترادف ہو سکتی ہیں اور ایسی وارداتیں قانون کی حکمرانی اور جمہوری نظام کے لیے ایک سنگین چیلنج ہیں۔ اس لیے ہر ایسے واقعے کی غیر جانبدارانہ جانچ ناگزیر ہے۔ عرضی میں بھوجپور کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ بھرت بھوشن تیواری کی ہلاکت فیس بک پر ایک لائیو ویڈیو نشر کرنے کے چند گھنٹوں بعد ہوئی، جس میں انہوں نے مبینہ طور پر بعض مطالبات پورے ہونے کی صورت میں خودسپردگی کی خواہش ظاہر کی تھی۔ عرضی میں متوفی کے والد کاشی ناتھ تیواری کے اس دعوے کا بھی ذکر کیا گیا کہ ان کے بیٹے کے خلاف نہ کوئی مجرمانہ ریکارڈ تھا، نہ کوئی ایف آئی آر یا چارج شیٹ درج تھی، اور مبینہ طور پر ہتھیار ڈالنے کے بعد بھی اسے گولی مار دی گئی۔ عرضی کے مطابق اس واقعے کے بعد گاؤں میں احتجاج ہوا اور مقامی باشندوں نے مطالبہ کیا کہ اس بات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں کہ اگر واقعی خودسپردگی کی کوشش کی گئی تھی تو پھر جان لیوا طاقت کا استعمال کیوں اور کن حالات میں کیا گیا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس مرحلے پر عرضی کی سماعت سے انکار کرتے ہوئے عرضی گزار کو مناسب قانونی فورم یعنی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دے دی۔
Source: Social Media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات