National

بھوج شالہ تنازع: آثارِ قدیمہ کی رپورٹ میں مندر کے آثار کا دعویٰ، عدالت میں سماعت جاری

بھوج شالہ تنازع: آثارِ قدیمہ کی رپورٹ میں مندر کے آثار کا دعویٰ، عدالت میں سماعت جاری

اندور: مدھیہ پردیش کے متنازعہ مذہبی مقام بھوج شالہ کمپلیکس سے متعلق پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں محکمہ آثار قدیمہ (اے ایس آئی) نے عدالت کو بتایا ہے کہ اس مقام پر قدیم دور میں ایک عظیم الشان عمارت موجود تھی، جو پرمارا حکمرانوں کے دور سے تعلق رکھتی ہے اور موجودہ ڈھانچہ پرانے مندروں کے اجزاء سے تعمیر کیا گیا۔ آثار قدیمہ نے عدالت کو بتایا کہ متنازعہ بھوج شالا مندر-کمل مولا مسجد کمپلیکس میں پارمارا بادشاہوں کے دور کا ایک بڑا ڈھانچہ موجود تھا، اور موجودہ ڈھانچہ مندروں کی باقیات سے بنایا گیا تھا۔ ہائی کورٹ کی اندور بنچ کے جسٹس وجے کمار شکلا اور آلوک اوستھی کے سامنے سماعت کے دوران، اے ایس آئی کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل سنیل کمار جین نے کمپلیکس میں دو سال قبل کیے گئے سائنسی سروے کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ محکمہ آثار قدیمہ نے 98 دنوں پر مشتمل سائنسی سروے اور 2000 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق اس مقام سے حاصل شدہ آثار، مجسمے، ستونوں پر کندہ تحریریں اور دیگر تعمیراتی باقیات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہاں ایک تعلیمی و ادبی مرکز موجود تھا۔ اے ایس آئی کے مطابق سنسکرت اور پراکرت زبانوں میں ملنے والے نوشتہ جات عربی و فارسی کتبوں سے قدیم ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مقام پر پہلے ہندو طرز کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ واضح رہے کہ ہندو فریق اس مقام کو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دیتا ہے، جبکہ مسلم فریق اسے کمال مولا مسجد مانتا ہے۔ عدالت میں اس معاملے پر مختلف درخواستیں زیرِ سماعت ہیں اور آئندہ سماعت میں مزید بحث متوقع ہے۔ بھوج شالا کیس کی سماعت بدھ کو بھی جاری رہے گی۔ ہائی کورٹ 6 اپریل سے بھوج شالا مندر-کمل مولا مسجد کمپلیکس کی مذہبی نوعیت سے متعلق چار عرضیوں اور ایک رٹ اپیل کی باقاعدگی سے سماعت کر رہی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments