National

بنگال سمیت پانچ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کی ووٹنگ مکمل، اب 4 مئی کی گنتی کا انتظار

بنگال سمیت پانچ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کی ووٹنگ مکمل، اب 4 مئی کی گنتی کا انتظار

نئی دہلی، 29 اپریل :مغربی بنگال میں بدھ کے روز دوسرے مرحلے کی ووٹنگ مکمل ہونے کے ساتھ ہی پانچ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کی ووٹنگ کا عمل بھی مکمل ہو گیا ہے ۔ تمام مقامات پر ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ووٹر فہرستوں کے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کو لے کر ملک گیر بحث کے درمیان مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ، آسام اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری کی اسمبلی انتخابات میں ووٹروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں آزادی کے بعد ووٹنگ فیصد کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ۔ مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں ہونے والے انتخابات میں مجموعی ووٹنگ فیصد 92.47 رہا۔ پہلے مرحلے میں 23 اپریل کو 152 نشستوں کے لیے 93.19 فیصد ووٹنگ ہوئی جبکہ دوسرے مرحلے میں آج 142 نشستوں پر مجموعی طور پر 91.66 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ ریاست کی کل 294 نشستوں کے لیے 2926 امیدوار میدان میں ہیں۔ یہاں اصل مقابلہ حکمراں ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان ہے جبکہ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں بھی اپنی طاقت آزما رہی ہیں۔ تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں 23 اپریل کو تمام 234 نشستوں پر 84.93 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ ریاست میں کل 4023 امیدوار میدان میں ہیں۔ یہاں اہم مقابلہ حکمراں دراوڑ منیتر کزگم (ڈی ایم کے ) کی قیادت والے اتحاد اور اپوزیشن اے آئی اے ڈی ایم کے -بی جے پی اتحاد کے درمیان ہے ۔ اس بار فلمی دنیا سے سیاست میں آنے والے سی جوزف وجے کی پارٹی تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے ) نے کچھ نشستوں پر مقابلہ سہ رخی بنا دیا ہے ۔ ان اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 9 اپریل کو آسام، کیرالہ اور پڈوچیری میں ووٹنگ ہوئی تھی۔ آسام میں 85.46 فیصد ووٹروں نے حق رائے دہی استعمال کیا جہاں 126 نشستوں کے لیے 722 امیدوار میدان میں ہیں۔ یہاں اصل مقابلہ حکمراں بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس کے درمیان ہے ۔ کیرالہ میں 78.17 فیصد ووٹنگ ہوئی جہاں 140 نشستوں کے لیے 890 امیدوار میدان میں ہیں۔ یہاں اہم مقابلہ حکمراں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی قیادت والے بائیں بازو کے اتحاد (ایل ڈی ایف) اور کانگریس کی قیادت والے متحدہ جمہوری محاذ کے درمیان ہے جبکہ بی جے پی بھی اپنی موجودگی درج کرانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹنگ پڈوچیری میں 89.87 فیصد ریکارڈ کی گئی جہاں 30 نشستوں کے لیے 294 امیدوار میدان میں ہیں۔ وہاں حکمراں قومی جمہوری اتحاد اور کانگریس کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے ۔ ان انتخابات میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے علاوہ مغربی بنگال اور آسام میں بنگلہ دیشی دراندازی اور بدعنوانی اہم مسائل رہے جبکہ تمل ناڈو اور کیرالہ میں بھی ترقی بمقابلہ بدعنوانی کا مسئلہ نمایاں رہا۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments