National

بنگال میں ای ڈی کی چھاپہ ماری پر دہلی میں ہنگامہ، دھرنے پر بیٹھے ڈیرک اوبرائن ،مہوا موئترا سمیت کئی لیڈر وں کو حراست میں لیا گیا

بنگال میں ای ڈی کی چھاپہ ماری پر دہلی میں ہنگامہ، دھرنے پر بیٹھے ڈیرک اوبرائن ،مہوا موئترا سمیت کئی لیڈر وں کو حراست میں لیا گیا

مغربی بنگال میں آئی پیک آفس پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی چھاپہ ماری کے خلاف دہلی میں سیاسی ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ ترنمول کانگریس کے ارکانِ پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے دفتر کے باہر احتجاجی دھرنا دیا، جس کے بعد دہلی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تمام مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے ارکانِ پارلیمنٹ میں ڈیرک اوبرائن، شتابدی رائے، مہوا موئترا، باپی ہلدر، ساکیت گوکھلے، پرتیما منڈل، کیرتی آزاد اور ڈاکٹر شرمیلا شامل ہیں۔ٹی ایم سی کے یہ ارکان وزارت داخلہ کے باہر دھرنا دیے بیٹھے تھے اور ای ڈی کی کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دے رہے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو حراست میں لے کر پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے منتقل کر دیا۔ حراست میں لیے جاتے وقت ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے کہا کہ ہم بی جے پی کو شکست دیں گے اور ملک کی عوام دیکھ رہی ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں کے ساتھ دہلی پولیس کس طرح کا سلوک کر رہی ہے۔ وہیں ڈیرک اوبرائن نے الزام لگایا کہ انہیں پرامن احتجاج تک کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ای ڈی نے کولکاتا میں واقع آئی پیک کے دفتر اور اس کے ڈائریکٹر پرتیک جین کے گھر پر چھاپہ ماری کی۔ یہ کارروائی کوئلہ اسمگلنگ گھوٹالے سے جڑی منی لانڈرنگ کی جانچ کے سلسلے میں کی گئی۔ ای ڈی کی ٹیموں نے سالٹ لیک سیکٹر 5 میں واقع آئی پیک کے دفتر میں تلاشی لی، جو سال 2019 سے ترنمول کانگریس کے لیے ایک سیاسی کنسلٹنسی فرم کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ پرتیک جین کے لاؤڈن اسٹریٹ واقع رہائش گاہ پر بھی تلاشی لی گئی۔ ای ڈی کی چھاپہ ماری کے دوران مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی خود مرکزی کولکاتا میں پرتیک جین کے گھر پہنچیں۔ جب وہ وہاں سے نکلیں تو انہیں کچھ دستاویزات اور ایک لیپ ٹاپ لے جاتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بارے میں ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ ترنمول کانگریس کا ہے اور آنے والے اسمبلی انتخابات سے متعلق مواد پر مشتمل ہے۔ بعد ازاں ممتا بنرجی سالٹ لیک میں واقع آئی پیک کے دفتر بھی گئیں۔ ان کے دورے کے دوران ان کے ساتھ آئے پولیس اہلکاروں کو فائلیں اور ڈائریاں دفتر سے نکالتے اور انہیں وزیر اعلیٰ کی گاڑی میں رکھتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس پورے معاملے نے ایک بار پھر مرکز اور مغربی بنگال کی حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی کو ہوا دے دی ہے۔ ترنمول کانگریس نے ای ڈی کی کارروائی کو سیاسی دباؤ اور انتقامی سیاست قرار دیا ہے، جبکہ مرکزی ایجنسیاں اسے قانون کے تحت کی گئی کارروائی بتا رہی ہیں۔ حالات پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں کہ آنے والے دنوں میں یہ تنازع کس رخ اختیار کرتا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments