نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر ) معاملے پر ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ جن ووٹرز کی اپیل ٹریبونل کے ذریعہ منظور کی جائے گی، انہیں مقررہ تاریخوں پر ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی۔ عدالت نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس معاملے میں واضح ہدایات جاری کیں۔ سپریم کورٹ کے مطابق، پہلے مرحلے کی ووٹنگ 23 اپریل کو اور دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 29 اپریل کو ہوگی۔ عدالت نے ہدایت دی کہ پہلے مرحلے کے لیے 21 اپریل تک اور دوسرے مرحلے کے لیے 27 اپریل تک جن درخواستوں کو ٹریبونل منظور کرے گا، ان ووٹرز کو متعلقہ مرحلے میں ووٹ دینے کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے برعکس جن درخواستوں کو مسترد کر دیا جائے گا، وہ ووٹ ڈالنے کے اہل نہیں ہوں گے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس معاملے میں کئی سطحی حفاظتی اقدامات کو مدنظر رکھا گیا ہے اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ کسی بھی اہل ووٹر کا حق رائے دہی متاثر نہ ہو۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ اپیلیٹ ٹریبونل کے فیصلوں کو ووٹنگ سے پہلے مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے تاکہ اہل افراد کو ووٹ دینے سے محروم نہ ہونا پڑے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب الیکشن کمیشن نے نامزدگی کے آخری دن ووٹر لسٹ کو فریز کر دیا تھا، جس کے باعث بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام زیر غور رہ گئے تھے۔ اس صورتحال کے پیش نظر سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے ایک خصوصی طریقہ کار وضع کیا تاکہ زیر التوا درخواستوں کا بروقت فیصلہ ہو سکے۔ عدالت نے کہا کہ ٹریبونل ووٹنگ سے دو دن پہلے تک زیر التوا درخواستوں کا فیصلہ کرے گا اور منظور شدہ درخواست دہندگان کو کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔ تاہم صرف درخواست دینا کافی نہیں ہوگا بلکہ متعلقہ دستاویزات کی مکمل جانچ کے بعد ہی فیصلہ لیا جائے گا۔ اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں کل 60 لاکھ 6 ہزار 675 ووٹرز کے نام زیر غور تھے، جن میں سے 32 لاکھ 68 ہزار 119 افراد کے نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کر لیے گئے ہیں، جبکہ 27 لاکھ 16 ہزار 393 افراد کو فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔ اس وقت تقریباً 16 لاکھ افراد نے اپیلیٹ ٹریبونل میں درخواست دی ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ درخواست دینے کے لیے ذاتی طور پر حاضر ہونا ضروری نہیں ہے۔ ووٹرز الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ یا ECInet موبائل ایپ کے ذریعے بھی درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے دفاتر میں بھی درخواست دی جا سکتی ہے۔ اس معاملے کی سماعت اور درخواستوں کی جانچ کے لیے 19 ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل ایک اپیلیٹ ٹریبونل تشکیل دیا گیا ہے، جو مختلف درخواستوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کر رہا ہے۔ یہ جج درخواست گزاروں کے دستاویزات کی مکمل جانچ کے بعد ہی ان کے حق میں یا خلاف فیصلہ دے رہے ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے بڑی تعداد میں ایسے ووٹرز کو راحت ملے گی جو اپنے حق رائے دہی سے محروم ہونے کے خدشے کا شکار تھے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جمہوری عمل میں شفافیت اور شمولیت کو یقینی بنانا ضروری ہے اور کسی بھی اہل شہری کو ووٹ دینے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات