National

خون کا ٹیسٹ 7 اور ای سی جی 25 روپے: پٹنہ میں کم خرچ نجی اسپتالوں کا اعلان، خان سر کا نیا مشن

خون کا ٹیسٹ 7 اور ای سی جی 25 روپے: پٹنہ میں کم خرچ نجی اسپتالوں کا اعلان، خان سر کا نیا مشن

پٹنہ: بھارت میں تعلیم اور صحت برسوں سے عام آدمی کے لیے سب سے مہنگے شعبے رہے ہیں۔ یہ کہاوت اب عام ہو چکی ہے کہ متوسط طبقے کا ایک فرد بھی اگر ایک بار اسپتال میں داخل ہو جائے تو اس کی پوری زندگی کی کمائی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ایسے وقت میں بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے ایک غیر معمولی قدم سامنے آیا ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کو مفت اور کم خرچ کوچنگ کے ذریعے مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی دلانے والے فیصل خان عرف خان سر اب صحت کے میدان میں بھی انقلاب لانے جا رہے ہیں۔ خان سر نے اعلان کیا ہے کہ وہ پٹنہ میں نجی اسپتالوں کی ایک ایسی چین قائم کریں گے جہاں علاج اور جانچ کی قیمتیں ناقابلِ یقین حد تک کم ہوں گی، خون کے ٹیسٹ صرف 7 روپے میں، ای سی جی 25 روپے، ایکس رے 35 روپے اور مکمل باڈی چیک اپ محض ایک ہزار روپے میں۔ ای ٹی وی بھارت کے بہار بیورو چیف بریجم پانڈے سے خصوصی گفتگو میں خان سر نے اس منصوبے کے پیچھے اپنی سوچ، مقصد اور طریقۂ کار پر تفصیل سے بات کی۔ پیش ہیں انٹرویو کے اہم اقتباسات: سوال: اتنے کم نرخوں پر علاج ممکن کیسے ہوگا؟ اس کا فارمولا کیا ہے؟ خان سر: یہ اسپتال ہم نے اس تکلیف کو سامنے رکھ کر بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک عام متوسط آدمی کو اسپتالوں میں پیش آتی ہے۔ سنگین بیماری میں لوگ قرض لیتے ہیں، زمین جائیداد بیچ دیتے ہیں۔ میرے دادا بچپن میں کہا کرتے تھے—بھوپجوری میں—“کمائی پر نہیں، اس بات پر فخر کرو کہ تم سماج کو کتنا واپس دے سکتے ہو۔” میرا مقصد یہی ہے۔ سوال: لیکن پھر بھی، اتنے کم داموں میں ٹیسٹ کیسے؟ خان سر: دوسرے نجی اسپتال شاید من مانے دام وصول کرتے ہوں، مگر ہم مرنے کے قریب انسان سے پیسہ نہیں مانگ سکتے۔ لگژری چیزوں پر ٹیکس بڑھاؤ، اے سی، چار پہیہ گاڑی، مالز میں خریداری مگر وینٹی لیٹر پر پڑے مریض سے پیسہ کیسے مانگو گے؟ آئی سی یو کا ایک دن 50 سے 70 ہزار روپے کا ہوتا ہے۔ دس دن میں بل پانچ لاکھ سے اوپر چلا جاتا ہے۔ اس کے بعد متوسط آدمی زیور گروی رکھتا ہے، آدھی قیمت پر زمین بیچتا ہے۔ میں دشرتھ مانجھی کی زمین سے ہوں، جس نے پہاڑ کاٹ کر راستہ بنایا۔ تو میں دوسروں پر کیسے چھوڑ دوں؟ سوال: آپ کتنے اسپتال کھول رہے ہیں؟ خان سر: فی الحال پانچ اسپتال، نیورولوجی، کارڈیالوجی، کینسر، گردوں کی بیماریوں اور ڈائیگناسٹکس کے لیے۔ کام بہت زیادہ ہے۔ کبھی کبھی تو مجھے خود یاد نہیں رہتا کہ میں کس اسپتال میں ہوں۔ سوال: تعلیم کے بعد اچانک صحت کی طرف توجہ کیوں؟ خان سر: بھارت میں تعلیم بھی دو طرح کی ہے، امیر کی الگ، غریب کی الگ۔ ہم نے اس فرق کو ختم کیا۔ دو ڈھائی لاکھ فیس کو کم کر کے بہت نیچے لائے اور معیار برقرار رکھا۔ یہی صحت میں ہوگا۔ امیروں کے اسپتالوں میں کروڑوں کی مشینیں ہیں، غریبوں کے اسپتالوں کی چھتیں ٹپکتی ہیں۔ خَرمَاس کے بعد ہمارے اسپتال شروع ہوں گے۔ لوگ ابھی سے کہہ رہے ہیں کہ انہیں ان اسپتالوں سے اپناپن محسوس ہو رہا ہے۔ ایک مریض تعمیر کے دوران آیا، پلاسٹک کا ٹکڑا اٹھا کر ڈسٹ بن میں ڈالا اور بولا “یہ ہمارا اسپتال ہے نا؟” سوال: بڑے اسپتالوں میں بھیڑ اور سفارش کا مسئلہ ہوتا ہے، آپ کیسے نمٹیں گے؟ خان سر: اسی لیے پانچ اسپتال ہیں۔ مریض جس بیماری کا ہوگا، وہیں جائے گا۔ ایک اسپتال ہوتا تو سب وہیں پہنچتے۔ ہر اسپتال خصوصی ہوگا۔ ساتھ ہی بیماریوں پر ریسرچ ہوگی، مریض کہاں سے آ رہے ہیں، عمر کیا ہے، خوراک کیسی ہے، سب پر اسٹڈی ہوگی۔ سوال: ڈائیگناسٹک ٹیسٹ سستے کیسے ہوں گے؟ خان سر: زیادہ تر کام اے آئی اور اے آئی مشینوں سے ہوگا۔ مثال کے طور پر ایم آر آئی سات ہزار کی ہوتی ہے۔ اگر بیماری نہ نکلے تو مریض کو لگتا ہے پیسہ برباد ہو گیا۔ ہماری اے آئی مشین پہلے ایک ہزار میں مکمل اسکریننگ کرے گی۔ اگر بیماری کا امکان نہ ہو تو ایم آر آئی کی ضرورت ہی نہیں۔ اگر شبہ ہو تو ڈاکٹروں کی ٹیم دیکھے گی، سب ملا کر صرف 1800 روپے۔ سوال: اتنی بڑی منصوبہ بندی یقیناً طویل تحقیق کے بعد ہوئی ہوگی؟ خان سر: ہم کافی عرصے سے تیاری کر رہے ہیں۔ میرے کئی دوست ڈاکٹر ہیں۔ اسپتال چلانے والے ڈاکٹر شاید مجھے پسند نہ کریں، مگر عام ڈاکٹر مجھ سے جڑے ہوئے ہیں۔ مسئلہ ڈاکٹروں سے نہیں، مسئلہ نظام سے ہے۔ پٹنہ میں امیروں کے لیے الگ ڈاکٹر ہیں، غریبوں کے لیے الگ۔ ہم ایسے نہیں ہیں۔ اگر کوئی مرسیڈیز سے آئے گا تو ہم اس سے آٹھ لاکھ بھی لے سکتے ہیں، اسے فرق نہیں پڑے گا۔ مگر آٹو سے آنے والے کو اگر دس پندرہ ہزار کے ٹیسٹ لکھ دو گے تو وہ کہاں سے لائے گا؟ سوال: آپ کی مقبولیت کو دیکھ کر سیاست میں آنے کی قیاس آرائیاں ہیں؟ خان سر: جو سیاست کرتے ہیں، اگر انہیں پڑھنا ہو تو ہم تیار ہیں۔ ارسطو، افلاطون سے لے کر معیشت تک سب پڑھائیں گے۔ ہم سیاست پڑھاتے ہیں، کرتے نہیں—ہمارے پاس وقت نہیں۔ سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت دیکھ کر تو میں خود تالا لگا دوں۔ ہم فوجی مزاج کے لوگ ہیں۔ سوال: آپ کے والدین اس سب پر کیا کہتے ہیں؟ خان سر: میرے والدین بہت خوش ہیں۔ دادا اب نہیں رہے۔ میری ماں اسپتال میں ٹیسٹ کی قیمتیں طے کرتی ہیں۔ جیسے ڈائلیسس سے پہلے کریاٹینین ٹیسٹ ہوتا ہے، میں کہتا ہوں سات آٹھ روپے میں ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر قیمت بتاتے ہیں، میں ماں کو دکھاتا ہوں۔ اگر وہ کہہ دیں کم کرو—تو بس وہی آخری فیصلہ ہوتا ہے۔ خان سر کا یہ اقدام محض ایک کاروباری منصوبہ نہیں بلکہ موجودہ صحت نظام پر ایک بڑا سوال بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا یہ ماڈل واقعی عام آدمی کے لیے امید کی نئی کرن بن پاتا ہے یا نہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments