National

بقرعید پر گائے کے ذبیحہ پر پابندی کا معاملہ: سپریم کورٹ سے تمل ناڈو حکومت کو بڑی راحت، ہائی کورٹ کا حکم معطل۔

بقرعید پر گائے کے ذبیحہ پر پابندی کا معاملہ: سپریم کورٹ سے تمل ناڈو حکومت کو بڑی راحت، ہائی کورٹ کا حکم معطل۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کے روز مدراس ہائی کورٹ کے اس حکم پر عبوری روک لگا دی ہے جس میں تمل ناڈو حکومت کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ریاست میں بقرعید کے موقع پر یا کسی بھی دوسرے دن گائے اور بچھڑے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی کو یقینی بنائے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنچ نے تمل ناڈو حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کردہ درخواست پر سماعت کی اور متعلقہ جواب دہندگان کو نوٹس جاری کیے۔ تمل ناڈو حکومت نے عدالتِ عظمیٰ میں دلیل دی کہ گائے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ہدایت 'تمل ناڈو انیمل پریوینشن ایکٹ 1958' کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ ریاستی حکومت کے مطابق: 1958 کے قانون کے تحت بعض مخصوص حالات میں مویشیوں کو ذبح کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اگر جانور کی عمر 10 سال سے زیادہ ہو جائے، یا وہ افزائشِ نسل اور زراعت کے کام کے لیے ناکارہ ہو چکا ہو، تو مطلوبہ سرکاری سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد اسے ذبح کیا جا سکتا ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں "تصحیح اور ترمیم" کی ضرورت ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے مدراس ہائی کورٹ کی ہدایات پر اگلے احکامات تک فوری طور پر روک لگا دی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments