اقلیتی علاقے ریجی نگر میں کنول کھلانے کا بی جے پی کا میگا منصوبہ
پوجا سے پہلے ہی بنگال میں انتخابی نقارے بج گئے ہیں۔ آئندہ 6 اکتوبر کو ریجی نگر اور نندی گرام میں ضمنی انتخاب ہے۔ دونوں حلقوں میں جیت کا سلسلہ برقرار رکھنے کے لیے بنگال بی جے پی کیمپ بے تاب ہے۔ اور اسی ہدف کے لیے اعلیٰ قیادت کود پڑی ہے۔ اس دوران نندی گرام کی جیت کا ہدف وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری طے کر چکے ہیں۔ تاہم چیلنج ریجی نگر ہے! آبادیاتی ساخت کے مطابق اس علاقے میں 70 فیصد اقلیت ہے۔ ایسی صورت حال میں ریجی نگر اسمبلی ضمنی انتخاب کے حوالے سے بی جے پی بند دروازے کی میٹنگ میں بیٹھی۔ بہرام پور کے ایک ہوٹل میں پارٹی رہنماو¿ں اور کارکنوں کے ساتھ مغربی بنگال ریاستی بی جے پی کے جنرل سیکرٹری (تنظیم) امیتابھ چکرورتی میٹنگ میں بیٹھے۔ خبر ہے کہ مسلسل تین گھنٹے کی میٹنگ میں ریجی نگر اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے جنگی حکمت عملی تیار کر دی گئی ہے۔ ہر منڈل کی ذمہ داری ارکان اسمبلی کو دی گئی ہے۔
بدھ کی سہ پہر یہ میٹنگ ہوئی۔ جہاں ضمنی انتخاب پر غور و خوض ہوا۔ معلوم ہوا ہے کہ ریجی نگر کے چار منڈلوں کی ذمہ داری بہرام پور کے رکن اسمبلی سوبرت میترا، بڑواں کے رکن اسمبلی سوکھین باگدی پر ہوگی۔ اس کے علاوہ ذمہ داری میں بیلڈانگا کے رکن اسمبلی بھرت جھاوڑ بھی ہیں۔ اور ذمہ داری میں ضلع کے دو وزرا گوری شنکر گھوش اور گارگی گھوش داس بھی ہوں گے۔ اور اگر کوئی امیدوار بننا چاہے تو ارکان اسمبلی اور وزرا بھی نام بھیج سکتے ہیں، یہ اسی میٹنگ میں بتایا گیا۔ تاہم ریجی نگر میں بی جے پی کی امیدوار فہرست میں پارٹی کے ریاستی جنرل سیکرٹری شاکھاربھ سرکار کا نام آگے ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے ضلعی صدر ملے مہاجن کا نام بھی سنا جا رہا ہے۔ اس بارے میں شاکھاربھ سرکار کہتے ہیں، ”پارٹی جسے موزوں سمجھے گی، اسی کو امیدوار بنائے گی۔“ اور بی جے پی کے بہرام پور تنظیمی ضلعی صدر ملے مہاجن کہتے ہیں، ”بہت اچھی میٹنگ ہوئی۔ ہم ریجی نگر اسمبلی جیتیں گے، یہ یقین دہانی کے ساتھ میٹنگ ہوئی۔“
دوسری طرف بدھ ہی کو ریاست کے وزیر اور بی جے پی رہنما گوری شنکر گھوش نے بتایا کہ چاہے کتنا ہی فرقہ وارانہ تاش کھیلیں، ریجی نگر ضمنی انتخاب میں اس بار کنول ہی جیتے گا۔ صرف یہی نہیں، عام عوام ترقی پارٹی کے چیئرمین اور رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کے الزام کو گوری شنکر نے بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ہمایوں نے الزام لگایا تھا کہ بی جے پی پولیس اور انتظامیہ کو استعمال کر کے ریجی نگر میں جیتنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے جواب میں وزیر گوری شنکر نے کہا، ”ہمایوں کبیر خوفزدہ ہو گیا ہے۔ مایوسی سے ہی یہ سب الزامات لگا رہا ہے۔ یہ الزام مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔“ انہوں نے مزید کہا، ریجی نگر کے لوگ ترقی چاہتے ہیں، روزگار چاہتے ہیں۔ فرقہ وارانہ سیاست نہیں، ترقی کی خاطر ہی اس بار ریجی نگر میں بی جے پی جیتے گی۔ صرف وقت کا انتظار ہے۔ ہمایوں کبیر کی پارٹی کی شکست یقینی ہے۔
اقلیتی علاقے ریجی نگر میں کنول کھلانے کا بی جے پی کا میگا منصوبہ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments