National

بجٹ میں تمام ریاستوں کے ساتھ انصاف کیا گیا ہے : نرملا سیتارمن

بجٹ میں تمام ریاستوں کے ساتھ انصاف کیا گیا ہے : نرملا سیتارمن

نئی دہلی، 11 فروری:) وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ بجٹ 27-2026 میں مرکزی حکومت کی جانب سے اتر پردیش، کیرالہ، مغربی بنگال سمیت تمام ریاستوں کے لیے ضروری فنڈز فراہم کیے گئے ہیں، لیکن کچھ جماعتیں سیاسی مفاد کے لیے لوگوں کو گمراہ کر رہی ہیں اور مرکزی امداد کے حوالے سے غلط تصویر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔محترمہ سیتارامن نے بدھ کے روز لوک سبھا میں بجٹ 27-2026 پر تین روزہ عام بحث کا دلائل، حقائق اور تیکھے انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اپنے دورِ حکومت میں ڈبلیو ٹی او میں ہندوستان کے کسانوں اور غریبوں کے مفادات پر سمجھوتہ کرنے والے اور شرم الشیخ میں دہشت گردی کے معاملے پر ہندستان اور پاکستان کو ایک صف میں کھڑا کرنے والے لوگ آج مودی حکومت پر ملک بیچنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ اپنے جواب میں انہوں نے بجٹ میں روزگار کے مواقع کی مبینہ کمی، غیر بی جے پی ریاستوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور بجٹ کے اعداد و شمار پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال اور کیرالہ جیسی ریاستوں میں وہاں کی حکومتوں کے طریقہ کار اور ماحول کی وجہ سے سرمایہ کاری متاثر ہوئی ہے ۔ انہوں نے اعلان کردہ منصوبوں پر کام نہ ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ریلوے کی مثال دی اور کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے واضح ہدایت دی ہے کہ ریلوے کے پروجیکٹس کا اعلان کسی نے بھی کیا ہو، انہیں مکمل کیا جانا چاہیے ۔ اسی ترتیب میں 1990 سے زیرالتوا 28 منصوبوں کو مودی حکومت نے مکمل کیا ہے اور 2000 سے 2014 کے درمیان کے تقریباً 150 منصوبوں پر کام جاری ہے ۔ وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں خاص طور پر اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، ترنمول کانگریس کے ابھیشیک بنرجی، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو اور کیرالہ کے بائیں بازو کے اراکین پر جوابی حملہ کیا اور ان کی باتوں کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لیے بجٹ کے اعداد و شمار پیش کیے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کو لے کر اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی وزیراعظم مودی پر حملے کر رہے ہیں، لیکن انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ مودی 'خودسپردگی' کرنے والے نہیں بلکہ ڈٹ کر بات کرنے والے لیڈر ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سال 2013 میں منموہن حکومت کے وقت انڈونیشیا کے بالی میں ڈبلیو ٹی او میں کانگریس حکومت نے ایسا معاہدہ کر لیا تھا کہ 2017 کے بعد حکومت نہ تو کسانوں سے سرکاری ذخیرے کے لیے اناج خرید پاتی اور نہ ہی غریبوں کو سستے داموں اناج تقسیم کیا جا سکتا تھا، لیکن مودی حکومت نے ڈبلیو ٹی او میں جا کر اسے چیلنج کیا۔ محترمہ سیتارمن نے دعویٰ کیا کہ اگر مودی حکومت نہ آتی تو بالی معاہدے کی شرائط کی وجہ سے ہندستان کے کسان سڑک پر آ جاتے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بالی میں ہی منموہن حکومت نے تجارتی سہولیات کے حوالے سے ایسا معاہدہ بھی کیا تھا جو ہندستان کے مفادات کے خلاف تھا۔ وزیر خزانہ نے پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے 'شرم الشیخ اعلامیہ' میں ہندستان کے ذکر کو تسلیم کرنے پر بھی اس وقت کی حکومت کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کی سرزنش کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ "امریکہ-ہندوستان معاہدے پر مودی کی تنقید کرنے والے بتائیں کہ 2009 میں شرم الشیخ میں ہندستان اور پاکستان (کے بیانیے ) کو جوڑنے والے کون تھے ؟"

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments