National

بازار میں تیسرے دن بھی اُتھل پُتھل جاری، سونا 13,000 اور چاندی میں26,000 روپئے کی گراوٹ

بازار میں تیسرے دن بھی اُتھل پُتھل جاری، سونا 13,000 اور چاندی میں26,000 روپئے کی گراوٹ

بجٹ سے پہلے اسٹاک مارکیٹ میں دوسرے روز بھی گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔ سینسیکس اور نفٹی دباؤ میں کاروبار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس دوران سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر زبردست گراوٹ آئی ہے۔ کموڈٹی مارکیٹ میں سونا اور چاندی کی قیمت میں 26 ہزار روپے تک کی کمی ہوئی ہے۔ سونا 9 فیصد یعنی 13 ہزارروپئے ٹوٹ کر ایم سی ایکس پی پر کاروبار کررہا ہے۔ وہیں چاندی کی قیمت میں 26,000 روپے سے زیادہ گراوٹ آئی ہے۔ دریں اثنا میٹل سیکٹر میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ سے چاندی ای ٹی ایف اور گولڈ ای ٹی ایف میں 11 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ نیپون انڈیا سلور ای ٹی ایف اور نیپون انڈیا گولڈ ای ٹی ایف نے نچلے سرکٹس کو نشانہ بنایا ہے۔ سونے اور چاندی میں یہ گراوٹ گزشتہ 3 کاروباری سیشن میں کے ساتھ آئی ہے۔ اب ہر کوئی چاندی اور سونے کے ای ٹی ایف بیچنے میں مصروف ہے۔ وہیں اس سے وابستہ میٹل اسٹاک بھی گراوٹ کا شکار ہوئے ہیں۔ اس دوران ویدانتا کے شیئر میں 10 فیصد گراوٹ آئی ہے۔ ہندوستان زنک کے شیئر میں 10 فیصد، ہندوستان کاپر کے شیئر میں 18 فیصد سے زیادہ کی گراوٹ، ہندوستان ایلومینیم کے شیئر میں تقریباً 5 فیصد اور ہنڈالکو کے شیئر میں 7 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ تجارتی سیشن کے دوران سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئی تھی۔ جمعہ کو چاندی اپنی ریکارڈ بلندی سے 1.28 لاکھ روپے سستی ہو گئی تھی جب کہ سونا 31 ہزار روپے سے زیادہ گر گیا تھا۔ ملٹی کموڈٹی مارکیٹ (ایم سی ایک) پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ سونا 1.40 لاکھ روپئے سے نیچے کاروبار کر رہا ہے، جبکہ چاندی 2.70 روپئے لاکھ پر برقرار ہے۔ یہ کمی مسلسل تیسرے سیشن میں ہوئی ہے۔ سرمایہ کار اب اپنے اگلے اقدامات کے بارے میں پریشان ہیں۔ وہیں کہا جارہا ہے کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن آج اپنا نواں بجٹ پیش کرنے کرنے جارہی ہیں اور توقع ہے کہ سونے اور چاندی کے حوالے سے اہم تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments