National

بھارت اور یو اے ای کے درمیان سرمایہ کاری، دفاع، توانائی اور سول نیوکلیئر شعبوں میں وسیع پیمانے پر اہم معاہدوں کا اعلان

بھارت اور یو اے ای کے درمیان سرمایہ کاری، دفاع، توانائی اور سول نیوکلیئر شعبوں میں وسیع پیمانے پر اہم معاہدوں کا اعلان

نئی دہلی: بھارت اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پیر کے روز صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے دورۂ بھارت کے دوران سرمایہ کاری، دفاع، توانائی، خلائی تعاون، تجارت اور سول نیوکلیئر شعبوں میں وسیع پیمانے پر اہم معاہدوں اور مفاہمتوں کا اعلان کیا۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلے بھارت-یو اے ای جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک بڑا قدم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان گجرات کے دھولیرا اسپیشل انویسٹمنٹ ریجن کی ترقی کے لیے ایک خط نیت پر دستخط کیے گئے۔ اس منصوبے کے تحت بین الاقوامی ہوائی اڈہ، گرین فیلڈ بندرگاہ، اسمارٹ اربن ٹاؤن شپ، ریلوے کنکٹیوٹی، توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، ایوی ایشن ٹریننگ اور طیاروں کی مرمت کی سہولیات قائم کی جائیں گی۔ بھارت اور یو اے ای نے اسٹریٹجک ڈیفنس پارٹنرشپ فریم ورک پر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کے تحت دفاعی صنعت، جدید ٹیکنالوجی، تربیت و تعلیم، اسپیشل آپریشنز، سائبر سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے گا۔ توانائی کے شعبے میں ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ اور اے ڈی این او سی گیس کے درمیان 10 سالہ ایل این جی سپلائی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت 2028 سے سالانہ 0.5 ملین میٹرک ٹن ایل این جی بھارت کو فراہم کی جائے گی۔ دونوں رہنماؤں نے اس معاہدے کو بھارت کی توانائی سلامتی کے لیے اہم قرار دیا۔ بھارتی خلائی ادارہ IN-SPACe اور یو اے ای اسپیس ایجنسی کے درمیان خلائی صنعت کے فروغ اور کمرشلائزیشن کے لیے تعاون پر اتفاق ہوا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مشترکہ خلائی مشنز، عالمی خدمات میں توسیع، ہنرمند روزگار اور اسٹارٹ اپس کو فروغ دینا ہے۔ مشترکہ بیان کے مطابق بھارت اور یو اے ای نے 2032 تک دوطرفہ تجارت کو 200 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے لیے ایم ایس ایم ایز کو جوڑنے، نئی منڈیوں کے فروغ اور بھارت مارٹ، ورچوئل ٹریڈ کوریڈور اور بھارت-افریقہ سیتو جیسے اقدامات پر زور دیا جائے گا۔ دونوں ممالک نے سول نیوکلیئر تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا، جس میں بڑے نیوکلیئر ری ایکٹرز، اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز (SMRs)، نیوکلیئر سیفٹی اور آپریشن و مینٹیننس شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھارت میں سپر کمپیوٹنگ کلسٹر کے قیام، گفٹ سٹی میں یو اے ای کمپنیوں کی شمولیت، ڈیجیٹل یا ڈیٹا ایمبیسیز کے امکانات، ابو ظہبی میں ’ہاؤس آف انڈیا‘ کے قیام، زرعی برآمدات کے فروغ اور نوجوانوں کے تبادلے جیسے اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے صدر شیخ محمد بن زاید کا دہلی ہوائی اڈے پر استقبال کیا اور بعد ازاں لوک کلیان مارگ پر اپنی رہائش گاہ پر ان اور ان کے اہل خانہ کی میزبانی کی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے گجرات کا روایتی لکڑی کا جھولا، کشمیری پشمینہ شال اور دیگر ثقافتی تحائف پیش کیے۔ یہ صدر شیخ محمد بن زاید کا بطور صدر تیسرا اور گزشتہ ایک دہائی میں پانچواں بھارت دورہ ہے، جو نئی دہلی اور ابو ظہبی کے درمیان مضبوط اور قریبی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments