National

بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ کشمیر کے باغبانی شعبے کو تباہ کر دے گا: محبوبہ مفتی

بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ کشمیر کے باغبانی شعبے کو تباہ کر دے گا: محبوبہ مفتی

سرینگر : پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ بھارت - امریکہ تجارتی معاہدہ جموں و کشمیر کے باغبانی شعبے اور ملک کی وسیع زرعی معیشت پر سنگین اثرات مرتب کرے گا۔ سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ نے کہا کہ ’’باغبانی کا شعبہ جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور لاکھوں خاندانوں کا ذریعۂ معاش ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’اگر یہ تجارتی معاہدہ اپنی موجودہ شکل میں نافذ ہوا تو ہم معاشی طور پر کمزور ہو جائیں گے اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔‘‘ محبوبہ نے دعویٰ کیا کہ درآمد شدہ سیبوں کی آمد نے پہلے ہی مقامی منڈیوں میں پریشانی پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے ایران سے آنے والے سیبوں کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عاید کیا کہ ’’قیمتوں کے فرق کی وجہ سے مقامی پیداوار کو مارکیٹ میں مقابلہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ امریکی کسانوں کو اپنی حکومت کی جانب سے بھاری سبسڈی ملتی ہے، جس کی وجہ سے کشمیری باغبانوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق: ’’ہمارا سیب بھاری سبسڈی والے امریکی سیب کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ تجارتی معاہدہ سنگین نتائج کا حامل ہوگا۔‘‘ پی ڈی پی سرپرست نے وزیر اعظم نریندر موسی سے مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی اور انہوں نے اس معاہدہ کو ’’کسانوں اور باغبانی شعبے سے وابستہ افراد کے مفادات کے منافی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک سے باہر سے آنے والے سیبوں پر کم از کم 50 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کی جائے تاکہ مقامی کاشتکاروں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ باغبانی سے وابستہ افراد اپنے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں اور مرکز سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے سے قبل کسانوں کے روزگار کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments