National

بہار:ایم پی پپو یادو گرفتار،راہل، پرینکا نے مذمت کی

بہار:ایم پی پپو یادو گرفتار،راہل، پرینکا نے مذمت کی

بہار:ایم پی پپو یادو گرفتار،راہل، پرینکا نے مذمت کی پٹنہ: کانگریس ایم پی پپو یادو کو بہار پولس نے گرفتار کرلیا ہے۔ ان کی گرفتاری رات کو ہوئی۔ گرفتاری سے قبل پٹنہ میں ہنگامہ بھی ہوا۔ پپو یادو کی گرفتاری نے بہار کی سیاست میں ایک بار پھر تیز سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ معاملہ اب صرف قانون و انتظام تک محدود نہیں رہا بلکہ اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی ٹکراؤ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ بی جے پی اور جے ڈی یو جہاں اس کارروائی کو قانون اور عدالت کے حکم کا فطری نتیجہ قرار دے رہے ہیں، وہیں اپوزیشن اسے سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ پپو یادو کی شبیہ ایک بے باک عوامی رہنما کی رہی ہے، ایسے میں ان کی گرفتاری کو لے کر سیاسی پیغامات بھی اخذ کیے جا رہے ہیں۔کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے لوک سبھا کے رکن راجیش رنجن عرف پپو یادو کی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے ہفتہ کے روز کہا کہ بہار میں نیٹ (NEET) کی امیدوار طالبہ کی موت کے معاملے میں انصاف کی آواز اٹھانے پر انہیں ڈرایا اور دھمکایا جا رہا ہے۔ پٹنہ پولیس نے 35 سال پرانے ایک معاملے میں آزاد رکنِ پارلیمان پپو یادو کو گرفتار کیا ہے۔ راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، "پٹنہ میں نیٹ کی امیدوار طالبہ کی مشتبہ حالات میں ہوئی موت اور اس کے بعد پوری کارروائی نے ایک بار پھر نظام کی گہری سڑاند کو بے نقاب کر دیا ہے۔" انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب متاثرہ خاندان نے غیر جانبدارانہ جانچ اور انصاف کا مطالبہ کیا تو وہی پرانا بی جے پی-راجگ ماڈل سامنے آ گیا—معاملے کو بھٹکاؤ، اہلِ خانہ کو ہراساں کرو اور مجرموں کو اقتدار کا تحفظ دو۔ گاندھی نے کہا، "اس بیٹی کے لیے انصاف کی آواز بن کر ساتھی رکنِ پارلیمان پپو یادو جی مضبوطی سے کھڑے ہوئے۔ ان کی گرفتاری واضح طور پر سیاسی انتقام ہے تاکہ جواب دہی مانگنے والی ہر آواز کو ڈرایا اور دبایا جا سکے۔" انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ واقعہ کسی ایک معاملے تک محدود نظر نہیں آتا۔ کانگریس کے سابق صدر نے کہا، "یہ ایک خوفناک سازش اور خطرناک رجحان کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں مزید بیٹیاں شکار بن رہی ہیں اور اقتدار اس ہولناک سچائی سے آنکھیں موندے بیٹھا ہے۔ یہ سیاست نہیں، انصاف کا سوال ہے۔ یہ بہار کی بیٹی کی عزت اور سلامتی کا سوال ہے۔ " پارٹی کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی پپو یادو کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں ظلم کے ساتھ کھڑی ہیں۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا، "پٹنہ کے ایک ہاسٹل میں نیٹ کی تیاری کر رہی طالبہ کے ساتھ عصمت دری اور قتل کا معاملہ دل دہلا دینے والا ہے۔ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد حکومت کا رویہ اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔" پرینکا نے کہا، "ایف آئی آر درج ہونے سے لے کر جانچ اور کارروائی تک سب کچھ مشتبہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ سب کس کو بچانے کے لیے کیا جا رہا ہے؟" انہوں نے کہا کہ ہاتھرس، اَنّاو سے لے کر انکیتا بھنڈاری اور پٹنہ تک—جہاں بھی خواتین کے ساتھ ظلم ہوتا ہے، بی جے پی کی حکومتیں متاثرہ کو انصاف دلانے کے بجائے ملزمان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہیں۔ پرینکا نے الزام لگایا کہ اس معاملے میں آواز اٹھانے والے رکنِ پارلیمان پپو یادو کی گرفتاری اسی غیر حساس رویے کی ایک اور کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کا ایجنڈا بالکل واضح ہے کہ وہ ناانصافی اور ظلم کے ساتھ کھڑے ہیں۔۔ اس واقعے نے بہار کی سیاست میں ’قانون بمقابلہ سیاست‘ کی بحث کو ایک بار پھر مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں ہر جماعت اپنے اپنے مفاد اور بیانیے کے مطابق اس پورے معاملے کی تشریح کرنے میں مصروف ہے۔ بی جے پی کے ترجمان پربھاکر مشرا نے کہا کہ چاہے عام آدمی ہو یا ایم پی، قانون سب کے لیے یکساں ہے۔ جب بھی پپو یادو کے خلاف aکارروائی ہوتی ہے تو وہ اسے سیاست قرار دے کر خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس بار پپو یادو شنبھو گرلز ہاسٹل کو ڈھال بنا کر بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہیں جے ڈی یو کے ترجمان نیرج کمار نے کہا کہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ پپو یادو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کر رہے تھے، اسی لیے کارروائی ضروری تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہر معاملے کو سیاست سے جوڑنا درست نہیں ہے۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments