National

بارامتی حادثہ: ریاستی حکومت کی درخواست پر فضائیہ کی ٹیم نے ایئر ٹریفک سروسز بحال کیں

بارامتی حادثہ: ریاستی حکومت کی درخواست پر فضائیہ کی ٹیم نے ایئر ٹریفک سروسز بحال کیں

نئی دہلی، 28 جنوری :بدھ کی صبح بارامتی میں مہاراشٹر کے چھ بار نائب وزیر اعلیٰ رہنے والے اجیت پوار اور چار دیگر افراد کی ہلاکت کے المناک واقعے کے بعد، ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف) نے بارامتی ہوائی اڈے پر ضروری تکنیکی آلات کے ساتھ ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) کے اہلکاروں کی ایک ٹیم تعینات کی ہے ۔ حکام نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فوری قدم حکومتِ مہاراشٹر کی درخواست پر اٹھایا گیا ہے ۔ فضائیہ نے اس ٹیم اور آلات کو ایئر فورس اسٹیشن لوہگا¶ں، پونے سے منتقل کیا ہے ۔ سرکاری بیان کے مطابق، "حکومتِ مہاراشٹر کی ہنگامی درخواست پر، ہندوستانی فضائیہ نے ایئر فورس اسٹیشن لوہگا¶ں سے ایئر ٹریفک کنٹرول کے اہلکاروں کی ایک ٹیم بشمول ضروری تکنیکی آلات تیزی سے بارامتی ایئر پورٹ روانہ کی۔ ٹیم نے مقامی انتظامیہ کے تعاون سے مواصلات اور دیگر ہنگامی سہولیات سمیت ہنگامی ایئر ٹریفک کنٹرول سروسز فوری طور پر قائم کیں تاکہ محفوظ اور موثر فضائی ٹریفک مینجمنٹ کو یقینی بنایا جا سکے ۔" 66 سالہ مسٹر اجیت پوار5 فروری کو ہونے والے ضلع پریشد انتخابات کی مہم کے سلسلے میں سفر کر رہے ۔ 'وی ایس آر وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ' کا ایک 'لیئر جیٹ 45' بزنس طیارہ بدھ کی صبح بارامتی ایئر فیلڈ کے رن وے 11 کی تھریش ہولڈ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا، جس میں مسٹر پوار سمیت جہاز میں سوار تمام پانچ افراد ہلاک ہو گئے ۔ طیارہ (رجسٹریشن وی ٹی -ایس ایس کے ) ممبئی سے بارامتی کے لیے ایک غیر شیڈول فلائٹ آپریٹ کر رہا تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، بارامتی ایک غیر منظم ایئر فیلڈ ہے جہاں مقامی فلائینگ ٹریننگ تنظیموں کے انسٹرکٹرز اور پائلٹس ٹریفک ایڈوائزری فراہم کرتے ہیں۔ طیارے نے پہلی بار صبح 8:18 بجے بارامتی سے رابطہ کیا۔ عملے کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اپنی صوابدید پر لینڈنگ کے لیے نیچے آئیں۔ انہیں بتایا گیا کہ ہوائیں پرسکون ہیں اور 3 ہزار میٹر تک صاف نظرآرہا ہے ۔ طیارے نے رن وے 11 پر اترنے کی کوشش کی لیکن رن وے نظر نہ آنے کی اطلاع کے بعد 'گو ارا¶نڈ' (دوبارہ چکر لگانے ) کا فیصلہ کیا۔ اس کے کچھ دیر بعد، عملے نے دوبارہ رن وے نظر آنے کی اطلاع دی اور انہیں صبح 8:43 بجے لینڈنگ کی اجازت دے دی گئی، تاہم پائلٹ کی جانب سے اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ صبح 8:44 بجے رن وے کے قریب آگ کے شعلے دیکھے گئے ۔ ہنگامی خدمات فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں جہاں ملبہ رن وے کے بائیں جانب پایا گیا۔ طیارہ 2010 میں تیار کیا گیا تھا اور اس کے پاس تمام ضروری فٹنس سرٹیفکیٹ موجود تھے ۔ کمانڈر کے پاس 15ہزار گھنٹے سے زیادہ پرواز کا تجربہ تھا جبکہ کو پائلٹ کے پاس تقریباً 1,500 گھنٹے کا تجربہ تھا۔ 'ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو' (اے اے آئی بی)نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments