National

بہار میں وکرم شیلا پل کے حصے کے ٹوٹنے پر کانگریس اور آر جے ڈی کا حکومت پر سخت حملہ، بدعنوانی کے الزامات

بہار میں وکرم شیلا پل کے حصے کے ٹوٹنے پر کانگریس اور آر جے ڈی کا حکومت پر سخت حملہ، بدعنوانی کے الزامات

پٹنہ: بہار کے ضلع بھاگلپور کو شمالی بہار سے جوڑنے والے اہم وکرم شیلا پل کے ایک حصے کے ٹوٹنے کے بعد سیاسی ردعمل تیز ہو گیا ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے ریاستی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس نے اس واقعے کو لاپروائی اور بدعنوانی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے قومی کارگزار صدر تیجسوی یادو نے اس معاملے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں بہار میں سو سے زائد پل اور پُلیا متاثر یا منہدم ہو چکے ہیں، جو ریاست میں بدعنوانی کی صورت حال کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ این ڈی اے حکومت کی بدعنوان پالیسیوں کے سبب بھاگلپور کا وکرم شیلا پل گنگا ندی میں جا گرا، اور اس سے بڑا ثبوت شاید ہی کوئی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ مہینے ہی انہوں نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ یہ پل کسی بھی وقت متاثر ہو سکتا ہے لیکن حکومت نے اس انتباہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ان کے مطابق واقعے کے وقت کئی گاڑیاں پل پر موجود تھیں، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ متاثر ہونے والا حصہ گاڑیوں کے نیچے نہیں آیا۔ ادھر، بہار پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر راجیش رام نے بھی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ پل کی دیکھ بھال اور مرمت کی مکمل ذمہ داری ریاستی حکومت کی ہوتی ہے، جس میں وہ ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقتاً فوقتاً معائنہ اور ضروری مرمت نہ ہونے کے باعث یہ اہم ڈھانچہ متاثر ہوا، جس سے لاکھوں لوگوں کی آمد و رفت متاثر ہو گئی ہے۔ راجیش رام نے کہا کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ اس پل کا اس طرح ٹوٹ جانا نہایت تشویش ناک ہے۔ ان کے مطابق یہ پل نہ صرف بھاگلپور بلکہ سیمانچل اور کوسی علاقوں کے لیے زندگی کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی دیکھ بھال میں سنجیدگی نہیں دکھائی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہو رہی ہے اور وکرم شیلا پل کا حصہ ٹوٹنا اسی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اس واقعے کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قصوروار افسران، انجینئروں اور ٹھیکیداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اور فوری طور پر پل کی مرمت کر کے عوام کے لیے محفوظ آمد و رفت یقینی بنائی جائے۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ اتوار کی دیر رات تقریباً بارہ بج کر تیس منٹ پر پیش آیا، جب پل کے ایک ستون کے قریب پہلے دھنساؤ شروع ہوا۔ احتیاطاً فوری طور پر ٹریفک روک دیا گیا، تاہم کچھ ہی دیر بعد پل کا ایک حصہ مکمل طور پر ٹوٹ کر نیچے گر گیا، جس کے بعد علاقے میں تشویش پھیل گئی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments