National

بہار اسمبلی کے 42 ارکان کو پٹنہ ہائی کورٹ کا نوٹس، انتخابی حلف ناموں میں مبینہ غلط بیانی پر وضاحت طلب

بہار اسمبلی کے 42 ارکان کو پٹنہ ہائی کورٹ کا نوٹس، انتخابی حلف ناموں میں مبینہ غلط بیانی پر وضاحت طلب

پٹنہ: پٹنہ ہائیکورٹ نے بہار اسمبلی کے تقریباً 42 اراکینِ اسمبلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ یہ نوٹس اُن درخواستوں پر جاری کیے گئے ہیں جن میں کامیاب امیدواروں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے انتخابی حلف ناموں میں غلط معلومات فراہم کیں اور اسمبلی انتخابات کے دوران مبینہ بے ضابطگیاں ہوئیں۔ یہ درخواستیں متعلقہ حلقوں سے شکست خوردہ امیدواروں کی جانب سے دائر کی گئی ہیں، جنہوں نے موجودہ ایم ایل ایز کی کامیابی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ نامزدگی کے وقت جمع کرائے گئے حلف ناموں میں اثاثوں، تعلیمی قابلیت، تاریخِ پیدائش اور دیگر ذاتی معلومات کی مکمل اور درست تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ نوٹس پانے والوں میں وزیرِ خزانہ و توانائی بیجندر پرساد یادو، سابق وزیر جیویش مشرا، ایم ایل اے چیتن آنند اور راشٹریہ جنتا دل کے گوہ سے ایم ایل اے امرندر پرساد سمیت متعدد اہم نام شامل ہیں۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد تمام نامزد ارکان سے جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ انتخابی حلف نامہ جمہوری نظام کا ایک نہایت اہم جز ہے اور ووٹرز امیدوار کے پس منظر، جائیداد اور دیگر تفصیلات کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ کس کو ووٹ دیں۔ عدالت کے مطابق اگر حلف نامے میں غلط یا نامکمل معلومات دی جائیں تو یہ سنگین معاملہ ہے، کیونکہ اس سے انتخابی عمل کی شفافیت متاثر ہوتی ہے۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان مبینہ تضادات کے باوجود الیکشن کمیشن کی جانب سے مناسب جانچ پڑتال نہیں کی گئی اور امیدواروں کو انتخاب لڑنے کی اجازت دے دی گئی، جو انتخابی عمل کی سالمیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ یہ پیش رفت 2025 کے بہار اسمبلی انتخابات کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں این ڈی اے اتحاد نے 243 رکنی اسمبلی میں 202 نشستیں حاصل کرتے ہوئے بڑی کامیابی درج کی تھی۔ این ڈی اے میں بھارتیہ جنتا پارٹی، جنتا دل (یونائیٹڈ)، لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس)، ہندوستانی عوام مورچہ اور راشٹریہ لوک مورچہ شامل ہیں۔ نوٹس پانے والے ارکان میں اکثریت حکمراں اتحاد سے تعلق رکھتی ہے، جس کے باعث ریاست کی سیاست میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ ہائی کورٹ نے تمام ارکان کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی کامیابی کی قانونی حیثیت ثابت کرنے کے لیے دستاویزی شواہد پیش کریں۔ آئندہ سماعت میں عدالت ان کے جوابات کا جائزہ لے گی۔ اس کیس کو جمہوری شفافیت اور انتخابی دیانت کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments