National

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر وادی کشمیر میں شدید غم و غصہ، بڑے پیمانے پر احتجاج

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر وادی کشمیر میں شدید غم و غصہ، بڑے پیمانے پر احتجاج

سری نگر،یکم مارچ : ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں شہادت کی تصدیق کے بعد پوری وادی¿ کشمیر سوگ، غم اور غیر معمولی غصے کی لپیٹ میں آگئی ہے ۔ اتوار کی صبح ایران کے سرکاری ذرائع نے خبر جاری کی تو چند ہی منٹوں میں وادی کے مختلف اضلاع میں عوام گھروں سے نکل آئے اور بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ، ماتمی جلوس، دھرنے اور دعائیہ اجتماعات شروع ہوگئے ۔ شیعہ اکثریتی علاقوں میں کہرام مچ گیا جبکہ سنی اکثریتی علاقوں میں بھی بڑی تعداد میں لوگ اظہارِ یکجہتی کے لیے سڑکوں پر اتر آئے ۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد سری نگر کے تاریخی لال چوک میں ہزاروں لوگ جمع ہوگئے ۔ گھنٹہ گھر کے اطراف سیاہ پرچم، بینرز، آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر اور احتجاجی نعروں کی گونج سنائی دیتی رہی۔ مرد، خواتین، نوجوان اور بزرگ سبھی شانہ بشانہ کھڑے رہے اور 'خامنہ ای صرف ایران کے نہیں، امت کے رہبر تھے ' اور 'امریکہ اور اسرائیل اس دہشت کے ذمہ دار ہیں' جیسے نعرے مسلسل بلند ہوتے رہے ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے ہمیشہ مظلوم اقوام کی آواز بن کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا اور ان کی شہادت امتِ مسلمہ کے لیے ناقابلِ تلافی سانحہ ہے ۔ اسی دوران سونہ وار میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر ہزاروں افراد نے دھرنا دیا۔ مظاہرین نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'خامنہ ای کی شہادت دنیا بھر کے مسلمانوں پر حملے کے مترادف ہے ، کشمیر اس ظلم پر خاموش نہیں رہ سکتا۔' پلوامہ، بڈگام، بانڈی پورہ اور بارہمولہ سمیت متعدد اضلاع میں بڑے ماتمی جلوس نکلے جن میں دونوں مکاتبِ فکر کے لوگ شریک ہوئے ۔ بڈگام اور سری نگر میں سیاہ پٹیاں باندھے نوجوانوں نے غم و غصے کا اظہار کیا جبکہ بارہمولہ کے مین بازار میں نکالی گئی ریلی میں عوام کا جمِ غفیر امڈ آیا۔ گاندربل میں خواتین کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی، نوحہ خوانی کی اور خامنہ ای کی تصاویر اٹھا کر ان کے لیے دعائیں کیں۔ خواتین کا کہنا تھا کہ ایک عہد ختم ہوگیا، خامنہ ای امت کی دھڑکن تھے ۔ خبر کی تصدیق کے بعد وادی کا ماحول یکسر تبدیل ہوگیا، بازار نیم بند رہے ، گلیوں میں سوگوار جلوسوں کا سلسلہ جاری رہا اور مساجد و امام بارگاہوں میں مجالسِ ترحیم، قرآن خوانی اور خصوصی دعائیں ہوتی رہیں۔ حسن آباد، زڈی بل اور دوسرے شیعہ آبادی والے علاقوں میں گہرا سوگ چھایا رہا اور امام بارگاہیں سوگواروں سے بھری رہیں۔ پولیس کے مطابق کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے تمام اضلاع میں سیکورٹی ہائی الرٹ پر ہے ۔ لال چوک اور دیگر حساس مقامات پر اضافی فورسز تعینات کی گئی ہیں جبکہ ڈرون کے ذریعے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے ۔ ایک اعلیٰ افسر نے یو این آئی کو بتایا کہ اب تک تمام احتجاج مکمل طور پر پرامن ہیں تاہم صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے ۔ مختلف مذہبی تنظیموں اور علما نے اپنے بیانات میں خامنہ ای کی شہادت کو امتِ مسلمہ کے لیے ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ امریکی-اسرائیلی جارحیت مشرقِ وسطیٰ کو شدید عدم استحکام کی جانب دھکیل رہی ہے ۔ اتحاد المسلمین، انجمن شرعی شیعیان اور دیگر تنظیموں کے رہنما¶ں نے اپنے خطابات میں کہا کہ خامنہ ای کی آواز دبانے سے حق ختم نہیں ہوسکتا۔ وادی¿ کشمیر اس وقت گہرے غم اور اضطراب میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ بازاروں میں اداسی، گلیوں میں ماتمی جلوسوں کی صدائیں، گھروں میں سوگ اور تعلیمی اداروں میں سناٹا اس بات کا عکاس ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے کشمیری عوام کو کتنی گہرائی سے متاثر کیا ہے ۔ لوگ عالمی رہنما کے قتل پر انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کے بگڑتے حالات پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments