National

ایرانی بحری جہاز معاملہ پر بھارت کا ردعمل، انسانیت کی بنیاد پر ایرانی جہاز کو کوچی میں لنگر انداز ہونے کی اجازت

ایرانی بحری جہاز معاملہ پر بھارت کا ردعمل، انسانیت کی بنیاد پر ایرانی جہاز کو کوچی میں لنگر انداز ہونے کی اجازت

نئی دہلی: وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے ہند بحرالکاہل میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے حوالے سے بھارت کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جنگی جہاز کے واقعے کے بعد بھارت نے انسانی بنیادوں پر ایک ایرانی بحری جہاز کو کوچی بندرگاہ میں لنگر انداز ہونے کی اجازت دی۔ یہ بیان انہوں نے رائسینا ڈائیلوگ کے دوران دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس دینا، جو بھارت میں ہونے والے بین الاقوامی فلیٹ ریویو میں شرکت کے بعد واپس جا رہا تھا، کو امریکہ نے بین الاقوامی سمندری حدود میں ڈبو دیا۔ اس واقعہ کو انہوں نے “بدقسمتی” قرار دیا۔ وزیر خارجہ کے مطابق ایک اور ایرانی جہاز آئی آر آئی ایس دینا کو تکنیکی خرابی کا سامنا تھا اور ایران نے بھارت سے اسے بندرگاہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی۔ بھارت نے یکم مارچ کو اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے جہاز کو کوچی میں لنگر انداز ہونے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے بتایا کہ جہاز پر موجود تقریباً 183 افراد، جن میں زیادہ تر نوجوان کیڈٹس شامل ہیں، اس وقت بھارتی بحریہ کی سہولیات میں قیام پذیر ہیں۔ جے شنکر نے کہا کہ “جب کوئی جہاز مشکل میں ہو اور مدد مانگے تو انسانیت کے ناطے مدد فراہم کرنا درست اقدام ہوتا ہے۔ بھارت نے اسی اصول کے تحت فیصلہ کیا۔” انہوں نے ہند بحرالکاہل کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں کئی دہائیوں سے مختلف عالمی طاقتوں کی موجودگی رہی ہے، جن میں ڈیگو گارسیا کا امریکی فوجی اڈہ اور حمبانٹوٹا پورٹ جیسے اسٹریٹجک مقامات شامل ہیں۔ وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خلیجی ممالک میں تقریباً 90 سے 100 لاکھ بھارتی شہری مقیم ہیں اور عالمی سمندری تجارت میں بڑی تعداد میں بھارتی ملاح خدمات انجام دیتے ہیں، اس لیے خطے میں کسی بھی تنازع کے اثرات بھارت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments