National

’آئندہ پانچ سالوں میں ہر ایک کا اپنا ذاتی ’اے آئی ساتھی‘ ہوگا

’آئندہ پانچ سالوں میں ہر ایک کا اپنا ذاتی ’اے آئی ساتھی‘ ہوگا

نئی دہلی، 16 جنوری : کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک ایسا انقلاب دستک دے رہا ہے جو انسانی زندگی کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کر کے رکھ دے گا۔ مائیکروسافٹ اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ٹیکنالوجی کے معروف برطانوی ماہر مصطفیٰ سلیمان نے پیش قیاسی کی ہے کہ اگلے پانچ سال کے اندر ہر انسان کے پاس اپنا ایک مخصوص'اے آئی ساتھی' ہوگا، جو نہ صرف اسے سمجھے گا بلکہ اس کی زندگی کے ہر فیصلے میں ایک وفادار دوست کی طرح ساتھ رہے گا۔ مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس دراصل کمپیوٹر سائنس کی وہ شاخ ہے جس کا مقصد ایسی مشینوں اور سافٹ ویئر سسٹمز کی تخلیق ہے جو انسانی ذہانت کی طرح سوچنے ، سمجھنے ، سیکھنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ جہاں روایتی کمپیوٹر پروگرام صرف دی گئی ہدایات پر عمل کرتے تھے ، وہیں 'ڈیپ لرننگ' اور 'نیورل نیٹ ورکس' پر مبنی جدید اے آئی نظام انسانی حواس (دیکھنے ، سننے اور محسوس کرنے ) کی نقل کرنے کے قابل ہو جائیں گے ۔ مصطفیٰ سلیمان، جو کہ مشہورِ زمانہ 'پائی' چیٹ بوٹ کے بانی بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ مستقبل کا اے آئی محض ایک ٹول (آلہ) نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل وجود ہوگا۔ ان کے مطابق، ''پانچ سال میں آپ کا اے آئی ساتھی وہ سب کچھ دیکھ سکے گا جو آپ دیکھ رہے ہیں، وہ سب سن سکے گا جو آپ سن رہے ہیں اور وہ آپ کے مزاج، ترجیحات اور محرکات سے اس قدر واقف ہوگا کہ زندگی کے بڑے چیلنجز میں آپ کا ہم سفر بن جائے گا۔'' سلیمان کا نظریہ ہے کہ اے آئی کو انسان کی ترجیحات کے تابع ہونا چاہیے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی توجہ ایسے نظاموں پر ہے جو انسانی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ جذباتی تعاون بھی فراہم کر سکیں۔ سوشل میڈیا پر اس پیش قیاسی نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔ جہاں ٹیکنالوجی کے مداح اسے ایک نئے روشن دور کا آغاز قرار دے رہے ہیں، وہیں بعض لوگ اسے انسانی رازداری کیلئے خطرہ اور کارپوریٹ غلامی کی ایک نئی شکل قرار دے رہے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ پانچ سال کا عرصہ بہت زیادہ ہے ، کیونکہ ٹیکنالوجی اس سے کہیں تیز رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے ۔ تاہم، اس ٹیکنالوجی کا عروج جہاں سہولتوں کے نئے در وا کر رہا ہے ، وہیں انسانی رازداری اور مشینوں پر بڑھتے ہوئے انحصار نے کئی اخلاقی سوالات کو بھی جنم دیا ہے ۔ ماہرینِ عمرانیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی ساتھی تنہائی کے خاتمے اور کام کی رفتار بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے ، لیکن اصل چیلنج انسان اور مشین کے درمیان ایک متوازن حدِ فاصل قائم رکھنا ہوگا تاکہ انسانی جذباتی خود مختاری متاثر نہ ہو۔

Source: uni news

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments