National

این سی ای آر ٹی کی آٹھویں جماعت کی سوشل سائنس کتاب واپس، عدلیہ میں بدعنوانی سے متعلق باب پر سپریم کورٹ کا از خود نوٹس

این سی ای آر ٹی کی آٹھویں جماعت کی سوشل سائنس کتاب واپس، عدلیہ میں بدعنوانی سے متعلق باب پر سپریم کورٹ کا از خود نوٹس

نئی دہلی: نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کی نئی آٹھویں جماعت کی سوشل سائنس کی درسی کتاب، جس میں ’’عدلیہ میں بدعنوانی‘‘ سے متعلق ایک حصہ شامل تھا، فروخت سے واپس لے لی گئی ہے۔ این سی ای آر ٹی ذرائع نے بدھ کے روز اے این آئی کو اس کی تصدیق کی۔ اسی معاملے پر سپریم کورٹ نے بدھ کو از خود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی شروع کر دی۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے واضح کیا کہ ادارے کو کسی بھی صورت بدنام ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا: ’’میں اس معاملے سے پوری طرح واقف ہوں۔ ہم ایک دن انتظار کریں گے۔ یہ پورے ادارے، بار اور بینچ دونوں سے متعلق ہے۔ مجھے مسلسل فون کالز اور پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ میں اس معاملے کا از خود نوٹس لے رہا ہوں۔ میں کسی کو بھی، چاہے وہ کتنے ہی اعلیٰ عہدے پر کیوں نہ ہو، اس ادارے کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘‘ سینئر وکلا کپل سبل اور ابھیشیک ایم سنگھوی نے چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے اعتراض اٹھایا کہ بچوں کو عدلیہ میں بدعنوانی ایسے پڑھائی جا رہی ہے جیسے یہ مسئلہ کسی اور ادارے میں موجود ہی نہ ہو۔ وکلا نے کہا: ’’بیوروکریسی، سیاست وغیرہ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ دیگر شعبوں کے بارے میں ایک لفظ تک نہیں ہے۔ ایسا پڑھایا جا رہا ہے جیسے بدعنوانی صرف اسی ادارے میں موجود ہو۔‘‘ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ سنگین نوعیت کا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’یہ ایک منصوبہ بند اور گہرا معاملہ ہے۔ ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہیں گے۔ ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے میں پوری طرح آگاہ ہوں اور اس سلسلے میں اقدامات کر رہا ہوں۔‘‘ اس سے قبل خبر آئی تھی کہ این سی ای آر ٹی نے جماعت ہشتم کی نئی سوشل سائنس کتاب میں ’’عدلیہ میں بدعنوانی‘‘ سے متعلق ایک حصہ شامل کیا ہے، جو سابقہ ایڈیشنز سے مختلف ہے۔ نظرثانی شدہ باب کا عنوان تھا: ’’ہمارے معاشرے میں عدلیہ کا کردار‘‘۔ اس باب میں عدالتوں کے ڈھانچے اور انصاف تک رسائی کی وضاحت کے ساتھ ساتھ عدالتی نظام کو درپیش چیلنجز، بشمول بدعنوانی اور مقدمات کے التوا (کیس بیک لاگ) کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ کپل سبل نے اس معاملے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا: ’’این سی ای آر ٹی کی جماعت ہشتم کی کتاب میں عدلیہ میں بدعنوانی کا باب شامل ہے! کیا سیاست دانوں، وزرا، سرکاری اہلکاروں اور تحقیقاتی ایجنسیوں میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا ذکر نہیں ہونا چاہیے؟ کیا حکومتوں کی بدعنوانی کو نظر انداز کر دیا جائے؟‘‘ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سینئر ایڈووکیٹ وکاس سنگھ نے بھی این سی ای آر ٹی کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’یہ انتہائی حیران کن ہے۔ کیا ان کے پاس ان 40 فیصد اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمنٹ کے بارے میں کوئی ذیلی باب ہے جن کا سنگین مجرمانہ پس منظر ہے؟ اگر وہ ایسا پیغام دینا چاہتے ہیں تو انہیں ان اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمنٹ کے بارے میں دینا چاہیے۔ عدلیہ میں بدعنوانی، ایگزیکٹو اور سیاست کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔‘‘

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments