پڈوچیری، 13 مئی: پڈوچیری میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) کی قیادت کر رہے این آر کانگریس کے بانی صدر این رنگاسامی نے بدھ کے روز وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔ مسلسل دوسری بار اتحادی حکومت کی قیادت کرنے والے مسٹر رنگاسامی کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک رکن اسمبلی نے بھی کابینہ وزیر کے طور پر حلف لیا۔ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیفٹیننٹ گورنر این کیلاش ناتھن نے لوک بھون میں منعقدہ ایک سادہ تقریبِ حلف برداری میں وزیر اعلیٰ سمیت نئے وزراءکو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ مسٹر رنگاسامی کے ساتھ بی جے پی کے پارلیمانی لیڈر اور سابق وزیر داخلہ اے نمشواایم اور این آر کانگریس کے ایم ایل اے ملادی کرشنا را¶ نے بھی وزیر کے طور پر حلف اٹھایا۔ یہ پانچواں موقع تھا جب مسٹر رنگاسامی نے بطور وزیر اعلیٰ حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب میں بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین، مرکزی وزیر اور بی جے پی کے پڈوچیری مبصر منسکھ منڈاویہ، بی جے پی کے انتخابی انچارج نرمل کمار سورانہ، اے آئی اے ڈی ایم کے اور لکشیا جن نایک کاچی سمیت اتحادی جماعتوں کے قائدین اور علاقائی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام موجود تھے ۔ آج چارج سنبھالنے والی نئی کابینہ میں آنے والے دنوں میں مزید وزراءکو شامل کر کے توسیع کی جائے گی۔ کل 30 نشستوں میں سے اے آئی این آر سی کی قیادت والے اتحاد نے 18 نشستیں جیتیں، جس میں اکیلے این آر کانگریس نے 12، بی جے پی نے چار، جبکہ اے آئی اے ڈی ایم کے اور لکشیا جن نایک کاچی نے ایک ایک نشست حاصل کی۔ دوسری طرف اپوزیشن کانگریس-ڈی ایم کے اتحاد نے چھ نشستیں جیتیں، جن میں ڈی ایم کے کو پانچ اور کانگریس کو ایک نشست ملی۔ بقیہ چھ نشستوں پر ٹی وی کے ، اس کے اتحادیوں اور آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ مسٹر رنگاسامی نے 9 اپریل کے انتخابات میں دو نشستوں سے جیت حاصل کی، اپنے گڑھ تھٹن چاوڑی سے ، جہاں انہوں نے ریاستی کانگریس صدر اور اپنے حریف وی ویتھیلنگم (جو لوک سبھا ایم پی بھی ہیں) کو شکست دی اور منگلم حلقے سے بھی فتح حاصل کی۔ اب وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ جلد ہی ان میں سے ایک نشست سے استعفیٰ دے دیں گے ۔ مسٹر رنگاسامی ماضی میں اپنی اصل جماعت کانگریس میں رہتے ہوئے بھی وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ سال 2008 میں جب وہ کانگریس حکومت کی قیادت کر رہے تھے ، تب ان کے اور مسٹر ویتھیلنگم کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے تھے ، جس کی وجہ سے انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ دونوں کے درمیان چشمک کانگریس کے دنوں سے ہے جب مسٹر ویتھیلنگم نے مسٹر رنگاسامی کے خلاف بغاوت کی تھی اور ستمبر 2008 میں ان کے جانشین کے طور پر دوسری بار وزیر اعلیٰ بنے تھے ۔ تاہم، مسٹر رنگاسامی نے اپنی پارٹی این آر کانگریس بنائی اور 2011 میں وزیر اعلیٰ بنے ۔ اس کے بعد 2016 میں وہ کانگریس سے اقتدار ہار گئے ، لیکن 2021 میں دوبارہ وزیر اعلیٰ کے طور پر واپسی کی اور اب مسلسل دوسری مدت کے لیے اقتدار برقرار رکھتے ہوئے آج دوبارہ حلف اٹھا لیا۔
Source: UNI NEWS
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات