National

ایک اور پارٹی کا بی جے پی کے ساتھ انضمام، بھگوا رنگ میں رنگی دہلی میں 16 کونسلروں والی اندرپرستھ وکاس پارٹی

ایک اور پارٹی کا بی جے پی کے ساتھ انضمام، بھگوا رنگ میں رنگی دہلی میں 16 کونسلروں والی اندرپرستھ وکاس پارٹی

نئی دہلی: قومی راجدھانی دہلی کی سیاست میں جمعہ کے روزخاموش مگراہم سیاسی پیش رفت دیکھنے کوملی۔ تقریباً سوا سال قبل عام آدمی پارٹی (عام آدمی پارٹی) سے بغاوت کرکے الگ سیاسی پارٹی اندرپرستھ وکاس پارٹی (آئی وی پی) بنانے والے 16 کونسلروں نے آج اپنی پارٹی کا حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں انضمام کردیا۔ دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا اور دہلی بی جے پی کے ریاستی صدرہرش ملہوترا کی موجودگی میں آئی وی پی کے کنوینرمکیش گوئل، ہیم چند گوئل سمیت 16 کونسلروں نے باضابطہ طورپربی جے پی میں شمولیت اختیارکرلی۔ اس موقع پروزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ مرکز، دہلی حکومت اورمیونسپل کارپوریشن تینوں میں بی جے پی کی حکومت ہونے سے ترقیاتی کاموں کومزید رفتارملے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام منتخب نمائندے مل کردہلی کوصاف، سرسبزاوربدعنوانی سے پاک بنانے کے لئے کام کریں گے۔ دہلی بی جے پی کے نومنتخب صدرہرش ملہوترا نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پالیسیوں اور ترقیاتی کاموں سے متاثرہوکراندرپرستھ وکاس پارٹی نے بی جے پی کے ساتھ انضمام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب، آئی وی پی کے کنوینرمکیش گوئل نے اپنی پارٹی کے انضمام کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ 2022 کے میونسپل انتخابات میں تمام کونسلرعام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پرکامیاب ہوئے تھے، جس کی بدولت اے اے پی نے میونسپل کارپوریشن میں اقتدارحاصل کیا، جبکہ دہلی میں بھی اسی کی حکومت تھی۔ تاہم پارٹی قیادت مسلسل کونسلروں کو گمراہ کرتی رہی اورترقیاتی کاموں کے لئے بجٹ میں ایک روپیہ تک مختص نہیں کیا گیا، جس کے باعث منتخب نمائندوں میں ناراضگی بڑھتی چلی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد جب ریکھا گپتا دہلی کی وزیراعلیٰ بنیں تواس وقت تک کئی کونسلرپہلے ہی بی جے پی میں شامل ہوچکے تھے۔ بعد ازاں 16 کونسلروں نے مل کر اندرپرستھ وکاس پارٹی قائم کی، جسے دہلی حکومت کی جانب سے تعاون ملا اورترقیاتی کام شروع ہوئے۔ مکیش گوئل نے کہا کہ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا دارالحکومت کے عوام کی فلاح وبہبود کے لئے بہترکام کررہی ہیں، اسی اعتماد کے تحت اندرپرستھ وکاس پارٹی نے اجتماعی طورپربی جے پی میں انضمام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments