دہرادون، 6 فروری : اترکھنڈ میں پشکر سنگھ دھامی حکومت کی جانب سے اترکھنڈ مدرسہ بورڈ کو ختم کیے جانے کے بعد اب ریاست کے مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے والے 40 ہزار سے زائد طلبا ریاست کے مرکزی دھارے کے تعلیمی نظام کا حصہ بنیں گے ۔ ان طلبا کو اپنی باقاعدہ کلاسیں ختم ہونے کے بعد مذہبی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔ اترکھنڈ کے بند کیے گئے 452 مدرسوں کے اقلیتی برادری کے یہ طلبا اب اترکھنڈ تعلیمی بورڈ کے نصاب کے تحت مرکزی دھارے کے تعلیمی نظام کو اپنائیں گے ۔ ریاست کے تعلیمی بورڈ کے ساتھ ان مدرسوں کے الحاق کے باضابطہ عمل کے بعد، مدرسوں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا کی اسناد (سرٹیفکیٹ) اب سرکاری ملازمتوں کے لیے قابلِ قبول ہوں گی۔ اس سے دھامی حکومت کی جانب سے حال ہی میں تشکیل دیے گئے 'اترکھنڈ اسٹیٹ مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی' کے بعد غیر فعال ہو چکے مدرسہ بورڈ میں رجسٹرڈ تقریباً 452 مدرسوں کے 40,000 سے زائد طلبا کو فائدہ پہنچے گا۔ واضح رہے کہ اقلیتی برادری کے تقریباً 43,000 طلبا نے ریاست کے قانونی مدرسوں سے منشی، مولوی، عالم (عربی-فارسی)، کامل اور فاضل جیسے اسلامی تعلیمی کورسز مکمل کیے ہیں۔ اگرچہ ان کورسز کو ریاستی تعلیمی بورڈ سے تسلیم شدہ حیثیت حاصل نہیں تھی، جس کی وجہ سے یہ طلبا سرکاری ملازمتوں کے اہل نہیں تھے ۔ سال 2016 میں قائم کیے گئے اترکھنڈ مدرسہ تعلیمی بورڈ کی اسناد کو مرکزی دھارے کے اسکولی تعلیمی بورڈ کے مساوی تسلیم کرانے کی کوششیں اب تک ناکام رہی تھیں۔ اترکھنڈ مدرسہ بورڈ کے چیئرمین مفتی شمعون قاسمی نے بتایا کہ دونوں بورڈز کے درمیان ہم آہنگی کی کمی کی وجہ سے طلبا اپنی تعلیمی اسناد کو روزگار کے لیے استعمال نہیں کر پا رہے تھے ۔ تاہم، ریاستی تعلیمی بورڈ سے الحاق ہونے کے بعد مدرسہ سرٹیفکیٹ بھی سرکاری محکموں اور اداروں میں روزگار کے لیے معتبر ہوں گے ۔ اسی دوران، ریاستی محکمہ بہبودِ اقلیت کے اسپیشل سکریٹری پراگ مدھوکر دھکاٹے نے واضح کیا کہ اترکھنڈ تعلیمی بورڈ سے الحاق کے خواہشمند مدرسوں کو تمام معیارات اور ضوابط کو پورا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پرائمری اور سیکنڈری سطح کی تعلیم دینے والے مدرسہ انتظامیہ کو ریاستی تعلیمی بورڈ کے مقرر کردہ معیارات پر عمل کرنا ہوگا۔ مدرسہ طلبا کو باقاعدہ کلاسوں میں اترکھنڈ بورڈ کے مقرر کردہ مرکزی دھارے کے مضامین پڑھنے ہوں گے ، جبکہ باقاعدہ پڑھائی کے بعد انہیں مذہبی تعلیم لینے کی اجازت ہوگی۔ مذہبی تعلیم کا درسی مواد اترکھنڈ اسٹیٹ مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی کی طرف سے طے کیا جائے گا۔
Source: UNI NEWS
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو