ریاست اتراکھنڈ میں کشمیریوں آئے دن مذہب کے نام پر حملے اور تشدد کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں ،اسی دوران تشدد کا ایک اور واقعہ رپورٹ ہوا ہے، گزشتہ شام ایک 18سالہ نوجوان کشمیری شال فروش کا فرقہ وارانہ ذہنیت کے حامل شر پسند عناصر نے زد و کوب کرکے اسے لہو لہان کر دیا۔ سیاسی و سماجی تنظیموں نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے سخت ٹھوس اقدامات اٹھائے جانے کی اپیل کی ہے۔ جموں کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر، ناصر کھویہامی،کے مطابق 18سالہ (متاثرہ) نوجوان سے شناخت پوچھی گئی اور جوں ہی اس نے اپنے مسلم اور وہ بھی کشمیری ہونے کا ذکر کیا تو اس پر مزید تشدد ڈھایا گیا۔ ناصر نے کہا: ’’نوجوان کو بے رحمی سے مارا پیٹا گیا، لوہے کی سلاخوں سے اس کے سر اور بازو پر وار کیے گئے، جس کے نتیجے میں اس کا بایاں بازو ٹوٹ گیا اور سر پر گہری اور شدید چوٹیں آئیں۔‘‘ ان کے مطابق ’’خون میں لت پر نوجوان کو ایک مقامی اسپتال اور بعد ازاں دہرہ دون کے ’دون اسپتال‘ منتقل کیا گیا۔‘‘انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر اتراکھنڈ کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دیپم سیٹھ کے ساتھ بھی بات کی جنہوں نے واقعے کا سنجیدہ نوٹس لینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کے مطابق ویاس نگر پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر نمبر 26/2026 درج کی گئی ہے اور ایک ملزم سنجے یادو کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے دیگر میڈیا ذرائع کی اطلاعات کے مطابق دو مسلم کشمیری نوجوان دہرادون کے وکاس نگر بازار میں ڈاک پتھر روڈ پر ایک دکان سے کچھ سامان خریدنے گئے تھے۔ الزام ہے کہ دکان پر موجود لوگوں نے ان کے خلاف مذہبی اور نسلی تبصرے کیے۔ متاثرین کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد انہیں پہلگام دہشت گردانہ حملے سے جوڑتے ہوئے قابل اعتراض تبصرہ کیا گیا اور جب انہوں نے احتجاج کیا تو ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔ اس کے خلاف وکاس نگر بازار پولیس اسٹیشن پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے۔ جائے وقوع پر جمع اقلیتی طبقے کے لوگوں نے زخمی نوجوانوں کو کندھوں پر اٹھا کر پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا اور ’’مسلمانوں پر ظلم بند کرو‘‘ جیسے نعرے لگائے۔ مظاہرین نے اس حملے میں دونوں کشمیری نوجوان شدید زخمی ہو گئے۔ ان کے جسم پر شدید زخموں کے نشانات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ واقعے کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔الزام لگایا کہ اتراکھنڈ میں مذہب کی بنیاد پر مسلم کمیونٹی کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے سخت کارروائی کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم ہوا۔ کھویہامی کا کہنا ہے کہ ’’یہ واقعہ اس خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں کمزور طبقوں، اقلیتوں کے خلاف فرقہ وارانہ شناخت کی بنیاد پر تشدد ڈھایا جاتا ہے اور دھمکیوں کو معمول بنایا جا رہا ہے۔‘‘ ناصر کے مطابق ’’ایک 18 سالہ لڑکا جو اپنے خاندان کی بقاء کے لیے محنت کر رہا تھا، اسے نفرت اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو