National

اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم اور مذہبی انتہا پسندی پر شدید تشویش: اے پی سی آر

اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم اور مذہبی انتہا پسندی پر شدید تشویش: اے پی سی آر

نئی دہلی، 21 جنوری: اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت، تشدد پر اکسانے ، معاشی بائیکاٹ اور منظم ہراسانی کے واقعات پر مبنی ایک چشم کشا اور تفصیلی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بدھ کے روز دہلی میں ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی جانب سے جاری کی گئی۔ جاری ریلیز کے مطابق اس رپورٹ کی تیاری کے لیے اے پی سی آر کی ٹیم نے ریاست کے مختلف اضلاع کا دورہ کیا تھا، متاثرین سے ملاقاتیں کیں اور زمینی حقائق کی بنیاد پر شواہد جمع کیے ۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ اتراکھنڈ میں خوف، عدم تحفظ اور عدم رواداری کی فضا مسلسل گہری ہوتی جا رہی ہے ، جس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور سماجی ہم آہنگی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ مسلمانوں کو نشانہ بنا کر دھمکیاں دینے ، روزگار اور تجارت کے بائیکاٹ اور نفرت پر مبنی مہم کے واقعات ایک تشویشناک معمول بنتے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2021 میں ہری دوار میں منعقد ہونے والا نام نہاد "دھرم سنسد" اس انتہا پسندانہ رجحان کی ایک واضح مثال ہے ، جہاں متعدد مقررین نے کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیں، تشدد پر اکسانے والے بیانات دیے اور آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی کی۔ ان تقاریر میں مسلمانوں کے قتل کی ترغیب، ہندو راشٹر کے قیام کے مطالبات اور اسلام و عیسائیت کے خلاف شدید نفرت انگیز زبان استعمال کی گئی، جس کی ملک بھر میں سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنان اور جمہوری حلقوں نے سخت مذمت کی۔ اے پی سی آر نے رپورٹ میں اس امر پر بھی گہری تشویش ظاہر کی ہے کہ ایسے اجتماعات میں شریک بعض مذہبی و سیاسی شخصیات نے قانون کی عملداری کو کھلے عام چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں سماج میں نفرت کے بیج بوئے گئے اور مسلمانوں کے خلاف ہراسانی، تشدد اور معاشی دبا¶ کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف آئینِ ہند کی روح اور اس کے سیکولر کردار کے منافی ہے بلکہ ریاست کی امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داریوں پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر اور سینئر سابق آئی۔ اے ۔ ایس افسر نجیب جنگ نے کہا کہ "یہ رپورٹ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک سنگین وارننگ ہے ۔ اگر نفرت اور تشدد کو اسی طرح نظرانداز کیا جاتا رہا تو اس کے نتائج جمہوریت، آئین اور سماجی یکجہتی کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوں گے ۔ ریاستی اداروں کو فوری طور پر غیر جانبدارانہ کارروائی کرنی ہوگی۔ " سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے کہا کہ"رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق آئینِ ہند کی کھلی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے والے عناصر کے خلاف کارروائی نہ ہونا قانون کی بالادستی کو کمزور کرتا ہے ۔ انصاف اور برابری کے اصولوں کا نفاذ ہی اس بحران کا واحد حل ہے ۔" فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ذریعے اے ۔ پی۔ سی۔ آر نے درج ذیل مطالبات پیش کیے ہیں: نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے والے تمام افراد کے خلاف فوری، غیر جانبدارانہ اور م¶ثر قانونی کارروائی کی جائے ۔ متاثرہ برادری کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور معاشی بائیکاٹ جیسے غیر قانونی اقدامات کو فوری طور پر روکا جائے ۔ آئینی اقدار، مذہبی آزادی اور تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے ۔ ریاست میں امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور م¶ثر اقدامات کیے جائیں۔ حکومتِ اتراکھنڈ اور مرکزی حکومت نفرت اور تشدد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپناتے ہوئے بلا امتیاز انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ پریس کانفرنس میں سابق سینئر آئی۔ اے ۔ ایس افسر ہرش مندر، اتراکھنڈ کے سابق ریاستی وزیر یعقوب صدیقی، معروف صحافی صبا نقوی سمیت دیگر دانشوران، سماجی کارکنان اور اتراکھنڈ سے آئے ہوئے صحافیوں نے بھی خطاب کیا اور ریاست کی تازہ صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کو تحقیق صحافی سرشٹی جیسوال اور کوشک راج نے تیار کیا ہے ، جبکہ پراکرتی نے رپورٹ کو مرتب کرنے کا کام انجام دیا ہے ۔

Source: uni news

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments