ایک اہم فیصلے میں، دہلی ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ ازدواجی تنازعہ کی صورت میں عورت کو حمل جاری رکھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ ایسا کرنے سے عورت کے جسمانی وقار کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور اس کے ذہنی صدمے میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ ریمارکس ایک عرضی کی سماعت کے دوران آیا جس میں ایک خاتون نے اپنے خلاف دائر فوجداری مقدمے کو چیلنج کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اسقاط حمل کے لیے شوہر کی اجازت لازمی نہیں ہے۔ اس فیصلے کو خواتین کی تولیدی آزادی اور خود مختاری کے عکاس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عدالت نے خاتون کو تعزیرات ہند کی دفعہ 312 کے تحت الزامات سے بری کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا مقصد خواتین کو سزا دینا نہیں بلکہ ان کی صحت اور حقوق کا تحفظ ہے۔ یہ کیس ایک ایسی خاتو ن سے جڑا ہے جس نے ازدواجی تناؤ کے درمیان، ازدواجی کشیدگی کے دوران اپنے 14 ہفتے کے حمل کو طبی طور پر ختم کر دیا تھا۔ اس کے شوہر نے اس عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعہ 312 کے تحت فوجداری شکایت درج کرائی تھی ۔ مجسٹریٹ عدالت نے خاتون کو طلب کیا جسے سیشن کورٹ نے برقرار رکھا۔ اس کے خلاف خاتون نے دہلی ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ جسٹس نینا بنسل کرشنا نے کہا کہ عورت کی تولیدی خود مختاری آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت محفوظ ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ عورت کو اس کی مرضی کے خلاف حمل جاری رکھنے پر مجبور کرنا اس کی پرائیویسی، جسمانی سالمیت اور فیصلہ سازی کی آزادی پر براہ راست حملہ ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی (ایم ٹی پی) ایکٹ کے تحت حاملہ خاتون کو اسقاط حمل کے لیے اپنے شوہر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد عورت کی جسمانی اور ذہنی صحت کو ممکنہ نقصان سے بچانا ہے، نہ کہ اسے اس کی ازدواجی حیثیت کی بنیاد پر محدود کرنا۔ شوہر کا موقف تھا کہ اسقاط حمل کے وقت یہ جوڑا ایک ساتھ رہ رہا تھا اور ان کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ازدواجی تنازعات کو صرف علیحدگی یا عدالتی کیس سے نہیں ماپا جا سکتا۔ ذہنی تناؤ، جذباتی دوری اور غیر مستحکم تعلقات بھی ازدواجی تنازعات کے عوامل ہیں۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو