Entertainment

آشا بھوسلےکی سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسم ہوئی ادا

آشا بھوسلےکی سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسم ہوئی ادا

نئی دہلی :لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ان کا جسدِ خاکی ممبئی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے شیواجی پارک شمشان گھاٹ لایا گیا جہاں آخری رسومات ادا کی گئیں۔ آشا بھوسلے کے بیٹے نے ہندو رسم کے مطابق چتا کو مکھ اگنی دی اور اس طرح موسیقی کی ایک عظیم آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ آخری رسومات سے قبل جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے جب معروف گلوکار شان اور انوپ جلوٹا نے گیت گا کر آشا بھوسلے کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس دوران موجود افراد کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ ترنگے میں لپٹے آشا بھوسلے کے جسدِ خاکی کو کندھوں پر اٹھا کر شمشان گھاٹ لایا گیا۔ اس موقع پر سرکاری اعزاز کے ساتھ سلامی بھی دی گئی۔ ہندی سنیما کی عظیم گلوکارہ آشا بھوسلے کے انتقال کے بعد ممبئی میں ان کے آخری دیدار کے لیے لوگوں کا جم غفیر امنڈ پڑا۔ فلمی دنیا، موسیقی کے شعبے اور سیاسی حلقوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات بڑی تعداد میں پہنچیں اور نمناک آنکھوں کے ساتھ انہیں الوداع کہا۔ شہر کی فضا سوگوار ہے اور ہر طرف دکھ اور خاموشی کی کیفیت محسوس کی جا رہی ہے۔ آشا بھوسلے کے آخری دیدار کے دوران کئی معروف چہرے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ اداکارہ تبو اور سینئر اداکارہ آشا پاریکھ خاص طور پر آبدیدہ دکھائی دیں۔ ان کے علاوہ سچن تندولکر، رتیش دیشمکھ، شیو سینا یوبی ٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے، ان کی اہلیہ رشمی، ٹھاکرے، آدتیہ ٹھاکرے، مہاراشٹر کے گورنر جشنو دیو ورما، گلوکار و موسیقار لیسلی پیٹر لوئس اور موسیقار اتم سنگھ بھی آخری دیدار کے لیے پہنچے۔ موسیقار اتم سنگھ نے اپنے تاثرات میں کہا کہ آشا بھوسلے کا جانا موسیقی کے ایک روشن باب کے اختتام کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق پہلے لتا منگیشکر کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا تھا، اب آشا بھوسلے کے جانے سے وہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی آوازیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں اور ان کی کمی کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔ رکن پارلیمنٹ اروند ساونت نے کہا کہ آشا بھوسلے اور لتا منگیشکر کے گیت نسلوں تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ انہوں نے ان کے جدوجہد بھرے سفر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی اور پیشہ ورانہ مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنی فنکاری کو ہمیشہ بلند رکھا۔ لیسلی پیٹر لوئس نے کہا کہ آشا بھوسلے کے ساتھ کام کرنا ان کے لیے باعثِ فخر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ نقصان صرف موسیقی کی دنیا کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہے، کیونکہ آشا بھوسلے ایک عہد کا نام تھیں۔ اداکار سنجے نارویکر نے کہا کہ آشا بھوسلے نے اپنی زندگی اور فن کے ذریعے لوگوں کو جینا سکھایا۔ انہوں نے دعا کی کہ خدا ان کی روح سکون دے۔ گلوکارہ سادھنا سرگم نے بھی ان کے انتقال کو موسیقی کے ایک دور کے خاتمے سے تعبیر کیا اور کہا کہ ان کے معیار تک پہنچنا آسان نہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments