National

آسارام کے آشرم کو سپریم کورٹ سے راحت، احمد آباد میں کارروائی پر عبوری روک، گجرات حکومت سے جواب طلب

آسارام کے آشرم کو سپریم کورٹ سے راحت، احمد آباد میں کارروائی پر عبوری روک، گجرات حکومت سے جواب طلب

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے احمد آباد میں واقع آسارام کے آشرم کی زمین اور جائیداد کے خلاف مجوزہ کارروائی پر عبوری روک لگا دی ہے اور گجرات حکومت سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ابتدائی سماعت کے دوران کہا کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے جاری کیے گئے شوکاز نوٹس میں ضروری تفصیلات کی کمی پائی گئی ہے، جس کے باعث فی الحال جوں کی توں صورت حال برقرار رکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ جسٹس مہتا پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سنایا۔ بنچ نے واضح کیا کہ جب تک معاملے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ نہیں لیا جاتا، تب تک کسی بھی قسم کی سخت کارروائی مناسب نہیں ہوگی۔ عدالت نے گجرات حکومت کو تین دن کے اندر اپنا حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے جبکہ اگلی سماعت 5 مئی کو مقرر کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد گجرات ہائی کورٹ کے 17 اپریل کے فیصلے پر بھی مؤثر طور پر روک لگ گئی ہے۔ ہائی کورٹ نے اس سے قبل ریاستی حکومت کو احمد آباد کے موٹیرا علاقے میں واقع تقریباً 45 ہزار مربع میٹر زمین پر قبضہ لینے کی راہ ہموار کر دی تھی۔ یہ زمین نریندر مودی اسٹیڈیم کے قریب واقع ہے اور اسے مجوزہ اسپورٹس ڈیولپمنٹ زون کے لیے استعمال کیے جانے کا منصوبہ تھا۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے گجرات حکومت سے کہا کہ وہ متنازعہ زمین سے متعلق تمام ضروری دستاویزات اور ریکارڈ عدالت میں پیش کرے۔ ریاستی حکومت نے اپنے موقف میں کہا کہ آشرم نے اصل الاٹمنٹ سے زیادہ زمین پر قبضہ کیا ہے اور زمین کے استعمال سے متعلق شرائط کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق 1980 میں دی گئی 6261 مربع میٹر زمین کے علاوہ مزید رقبے پر قبضہ کیا گیا، جسے بعد میں مختلف مراحل میں ریگولرائز کیا گیا۔ دوسری جانب آشرم کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل مکل روہتگی نے عدالت میں دلیل دی کہ پوری کارروائی غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ یہ زمین مجوزہ اسپورٹس زون کے دائرے میں آتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ شوکاز نوٹس میں ٹھوس اور واضح بنیادیں فراہم نہیں کی گئیں، جو قانونی تقاضوں کے خلاف ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اپنے کیس کو مضبوط بنانے کے لیے شوکاز نوٹس میں درج نکات پر ہی انحصار کرے۔ بنچ نے ریمارکس دیے کہ ”آپ کا کیس بالآخر آپ کے نوٹس پر ہی قائم ہوگا اور پہلی نظر میں اس میں ضروری تفصیلات موجود نہیں ہیں“۔ اس مشاہدے کے ساتھ عدالت نے عبوری راحت دیتے ہوئے موجودہ حالت برقرار رکھنے کا حکم جاری کیا۔ یاد رہے کہ اس آشرم کا انتظام سنبھالنے والے ٹرسٹ نے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے ریونیو حکام کی جانب سے جاری بے دخلی نوٹس کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد ٹرسٹ نے اعلیٰ عدالت سے رجوع کیا۔ یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب حکومت نے اس زمین کو مجوزہ سردار پٹیل اسپورٹس کمپلیکس کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ظاہر کیا۔ ایسے میں زمین کے استعمال، قانونی حیثیت اور قبضے سے متعلق سوالات نے تنازع کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے عبوری حکم سے فی الحال آشرم کو بڑی راحت ملی ہے اور فوری کارروائی رک گئی ہے۔ تاہم آئندہ سماعت میں پیش کیے جانے والے شواہد اور دلائل کی بنیاد پر اس معاملے کا حتمی رخ طے ہوگا۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا موجودہ حکم صرف عارضی نوعیت کا ہے اور اصل فیصلہ مکمل سماعت کے بعد ہی سامنے آئے گا، جس پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments