National

آسام: ہیمنت بسوا سرما نے دوسری مرتبہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا، 4 اراکین اسمبلی بھی بنے وزیر

آسام: ہیمنت بسوا سرما نے دوسری مرتبہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا، 4 اراکین اسمبلی بھی بنے وزیر

ہیمنت بسوا سرما نے منگل (12 مئی) کو دوسری بار آسام کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔ آسام کے گورنر لکشمن پرساد آچاریہ نے ویٹرنری فیلڈ کھاناپارہ میں صبح 11.40 بجے ہیمنت بسوا سرما اور 4 وزراء کو حلف دلایا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ سمیت بی جے پی کی حکومت والی تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور مرکزی وزراء موجود رہے۔ اس کے ساتھ ہی ہیمنت بسوا سرما آسام کے پہلے غیر کانگریسی لیڈر بن گئے ہیں جو مسلسل دوسری بار وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھال رہے ہیں۔ واضح رہے کہ آسام میں یہ این ڈی حکومت کی تیسری مدت کار ہے۔ اس سے قبل 2016 میں بی جے پی کی قیادت میں پہلی بار سربانند سونووال وزیر اعلیٰ بنے تھے، جبکہ 2021 میں ہیمنت بسوا سرما نے ریاست کی کمان سنبھالی تھی۔ آج ہیمنت بسوا سرما کے ساتھ ساتھ سابق مرکزی وزیر رامیشور تیلی، آسام گن پریشد (اے جی پی) کے صدر اتُل بورا، بوڈولینڈ پیپلز فرنٹ (بی او پی ایف) کے لیڈر چرن بورو اور بی جے پی لیڈر اجنتا نیوگ نے بطور وزیر حلف لیا۔ ہیمنت بسوا سرما 2015 میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ اس وقت آسام میں کانگریس کا دبدبہ تھا اور بی جے پی کے پاس 5 اراکین اسمبلی تھے۔ 2016 میں بی جے پی نے انہیں نارتھ ایسٹ ڈیموکریٹک الائنس (این ای ڈی اے) کا کنویز بنایا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے شمال مشرق کی علاقائی پارٹیوں کو بی جے پی کے ساتھ جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ قابل ذکر ہے آسام اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے نے مجموعی طور پر 102 سیٹوں پر جیت حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کر لی۔ ان میں سے بی جے پی نے 82 سیٹیں حاصل کیں، جبکہ اس کی اتحادی جماعتوں آسام گن پریشد (اے جی پی) اور بوڈولینڈ پیپلز فرنٹ (بی او پی ایف) نے 10-10 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ اس طرح این ڈی اے نے ریاست میں مستحکم پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے مسلسل تیسری بار اقتدار میں واپسی کی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments